The news is by your side.

Advertisement

سندھ کے لوک گلوکار سہراب فقیر نے بیرونِ ملک بھی اپنی آواز کا جادو جگایا

سندھ کے معروف لوک گلوکار سہراب فقیر نے 23 اکتوبر 2009ء میں ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔ وہ خاصے عرصے سے بیمار تھے جب کہ فالج نے ان سے وہ آواز بھی چھین لی تھی، جس نے ملک اور بیرونِ‌ ملک صوفیانہ کلام اور لوک گائیکی کے شائقین کو ان کا مداح بنایا تھا۔

سہراب فقیر کا اصل نام سہراب خاصخیلی تھا۔ وہ 1934ء میں خیرپور میرس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ہمل فقیر بھی اپنے وقت کے نام ور گائیک تھے۔ انہی سے سہراب فقیر نے گائیکی کی ابتدائی تربیت حاصل کی اور پھر پٹیالہ گھرانے کے معروف استاد خان صاحب کیتے خان کے شاگرد ہوگئے اور راگ کے ساتھ ساتھ طبلہ بجانا بھی سیکھا۔

1974ء میں استاد منظور علی خان کے کہنے پر سہراب فقیر نے گائیکی کا آغاز کیا۔ وہ سچل سرمست، شاہ لطیف بھٹائی، سلطان باہو اور بابا بلھے شاہ کا کلام والہانہ انداز میں گاتے تھے جس نے انھیں مقبول لوک گلوکار بنا دیا۔

سہراب فقیر نے متعدد ممالک میں اپنے فن کا جادو جگایا اور کئی اعزازات حاصل کیے جن میں سچل ایوارڈ، قلندر ایوارڈ، لطیف ایوارڈ اور ریڈیو خیرپور کے ایوارڈز سرفہرست ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے اس فن میں خدمات کے اعتراف میں انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔

سہراب فقیر کو سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے میں ملکہ حاصل تھا۔ انھوں نے آٹھ برس کی عمر سے صوفیوں کا کلام گانا شروع کیا تھا اور ساری زندگی اپنے اس محبوب مشغلے کو جاری رکھا۔ وہ اپنے فن پر اپنی گرفت اور مہارت کے لیے بھی مشہور تھے اور اور یہی وجہ تھی کہ ثقافتی طائفہ کے ساتھ انھیں ضرور بیرونِ ممالک بھیجا جاتا تھا۔ انھوں نے برطانیہ، بھارت، ناروے، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

سہراب فقیر سندھی، سرائیکی، پنجابی اور اردو زبانوں میں گاتے تھے۔ سندھی ثقافت کے روایتی رنگ ان کے ملبوس، گلے کی مالا، اجرک، پگڑی کی صورت جھلکتے تھے جب کہ صوفیانہ کلام اور لوک گائیکی کے لیے اسٹیج پر وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان روایتی سازوں اور آلاتِ موسیقی کے ساتھ نظر آتے جو خاص طور پر بیرونِ ممالک حاضرینِ محفل کے لیے باعثِ کشش بنتا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں