The news is by your side.

Advertisement

سلطنتِ‌ عثمانیہ کے مشہور سلطان سلیمانِ اعظم کی زندگی کے اوراق

آج سلطنتِ عثمانیہ کے ایک مشہور اور عظیم حکم ران سلیمان اوّل کا یومِ وفات ہے جنھیں ترکی میں سلیمان قانونی بھی کہا جاتا ہے جب کہ مغرب و یورپ کے غیر مسلم مؤرخین نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے اور انھیں سلیمانِ اعظم لکھا ہے۔

سلطان کی ریاست ترکی کے بعد سَر زمین حجاز، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، شام، بیتُ المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی اور یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری بھی ان کے زیرِ نگیں‌ تھے۔

سلیمان اوّل سلطنت عثمانیہ کے دسویں اور طویل ترین عرصہ تک حکم ران رہنے والے سلطان تھے۔وہ 1464ء میں پیدا ہوئے اور 1520ء میں سلطنت سنبھالی۔ سلطان 1566ء میں اپنی وفات تک سلطنت کے حکم ران رہے۔

ان کے عہد میں سلطنت عثمانیہ کے لیے قانون سازی کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اس بنا پر ترک انھیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔

وہ نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ کے اُن اہم اور مشہور حکم رانوں میں سے ایک تھے جنھوں نے زبردست فتوحات کیں اور یورپ میں مسیحیوں کے اہم مراکز کے علاوہ جنگوں کے بعد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے متعدد علاقے سلطنت میں شامل کیے۔ ان کے دور میں سلطنتِ عثمانیہ میں فن و ادب اور تعمیرات کے شعبوں میں بہت ترقی ہوئی۔

ان کے والد سلیم اوّل سلطنت عثمانیہ کے نویں سلطان تھے جن سے سلیمان قانونی نے حربی فنون سیکھے۔ سلیمان نے اپنے دورِ سلطانی میں عثمانی سلطنت کو سیاسی برتری دلوانے اور اسے قائم و برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ وہ اپنے 46 سالہ دورِ حکومت میں جنگ یا کسی نہ کسی مہم میں مصروف رہے حتیٰ کہ دورانِ جنگ ہی داعی اجل کی آواز پر لبیک کہا۔

وہ آسٹریا میں 1565ء میں ایک جنگی مہم کے دوران اپنی فوج کی قیادت کررہے تھے جہاں فتح سے قبل انتقال کرگئے، تاہم ان کی فوج نے غلبہ پایا اور فتح کے بعد سلطان کی میّت قسطنطنیہ لائی گئی جہاں مسجدِ سلیمانیہ میں انھیں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں