The news is by your side.

دل کش نظموں کے خالق سُرور جہان آبادی جنھیں ایک حادثے نے رندِ بَلا نوش بنا ڈالا

فکرِ‌ معاش اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ایک طرف، لیکن جس حادثے نے سُرور کو توڑ کر رکھ دیا، وہ ان کی شریکِ حیات اوراکلوتے بیٹے کی موت تھا۔ اس درد ناک واقعے کے بعد انھوں‌ نے شراب نوشی شروع کر دی اور یہی عادت ان کی موت کا سبب بنی۔

سُرور جہاں آبادی کا نام درگا سہائے تھا۔ وہ 1873ء میں برطانوی ہند کے علاقے جہاں آباد، ضلع پیلی بھیت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کی اور اس زمانے کے دستور کے مطابق فارسی زبان سیکھی۔ اسی زبان کی بدولت شعر و شاعری کی طرف مائل ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد انگریزی زبان بھی سیکھ لی اور دو سال بعد انگریزی، مڈل امتحان بھی پاس کر لیا۔

سُرور نے ابتدائی فارسی اور سنسکرت کی تعلیم اپنے والد سے لی تھی، لیکن مڈل اسکول کے صدر مدرس مولوی سید کرامت حسین بہار بریلوی جو عربی، فارسی اور اردو کے جیّد عالم تھے، ان کی خصوصی توجہ کی بدولت سرور نے ان زبانوں پر مکمل عبور حاصل کرلیا۔ انگریزی سیکھی تو اس زبان میں‌ بھی ادب کا مطالعہ شروع کردیا اور انگریزی نثر و نظم کی اعلیٰ کتابیں ان کے زیرِ مطالعہ رہیں۔ ان کی علم و ادب میں‌ دل چسپی عمر کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور انگریزی میں اس قدر استعداد حاصل کرلی کہ متعد نظموں کو اردو زبان میں ڈھالا اور ان کے اسلوب و کلام پر اظہارِ خیال بھی کیا۔ انھوں نے طب کی تعلیم بھی اپنے والد سے حاصل کی تھی۔

یہ غالباً انگریزی شاعری کے مطالعے کا اثر تھا کہ سُرور نظم نگاری کی طرف مائل رہے۔انھوں نے غزل جیسی مقبول صنفِ سخن میں بھی طبع آزمائی کی، لیکن ان کی نظمیں منفرد فضا کی حامل تھیں۔

انھوں نے نئی نظم کو موضوعاتی اور اسلوبیاتی لحاظ سے نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سُرور کی قافیہ بند نظموں میں‌ اردو، ہندی اور فارسی الفاظ کا نہایت خوب صورت استعمال پڑھنے کو ملتا ہے۔ اردو شاعری میں‌ نظیر کے بعد سرور جہان آبادی کے یہاں حبُ الوطنی کا جذبہ نسبتاً زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ ان کی نظم ہندوستانی روایت اور رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔

سرور کے عہد کا ہندوستان سیاسی، سماجی اور اقتصادی بحران کا شکار تھا اور آزادی کا جوش و ولولہ تحریکوں کی صورت میں‌ بڑھ رہا تھا جس میں‌ حبُ الوطنی کے جذبے کو ابھارنے کے لیے سُرور نے اپنی نظموں‌ سے خوب کام لیا۔ ان کا کلام ’ادیب‘ اور ’مخزن‘ جیسے رسالوں میں تسلسل کے ساتھ شایع ہوتا رہا۔ 3 دسمبر 1910ء میں سُرور ہمیشہ کے لیے غمِ روزگار سے نجات پاگئے۔ ان کی ایک غزل پیشِ خدمت ہے۔

بہ خدا عشق کا آزار بُرا ہوتا ہے
روگ چاہت کا برا پیار برا ہوتا ہے

جاں پہ آ بنتی ہے جب کوئی حسیں بنتا ہے
ہائے معشوق طرح دار برا ہوتا ہے

یہ وہ کانٹا ہے نکلتا نہیں چبھ کر دل سے
خلشِ عشق کا آزار برا ہوتا ہے

ٹوٹ پڑتا ہے فلک سَر پہ شبِ فرقت میں
شکوۂ چرخِ ستم گار بُرا ہوتا ہے

آ ہی جاتی ہے حسینوں پہ طبیعت ناصح
سچ تو یہ ہے کہ دلِ زار بُرا ہوتا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں