The news is by your side.

Advertisement

ندھ کے معروف محقّق، مؤرخ اور مصنّف تاج محمد صحرائی

تاج صحرائی سندھی زبان کے معروف ادیب تھے۔ انھوں نے سندھی کے علاوہ اردو اور انگریزی زبانوں میں کئی کتب اور مقالات تحریر کیے اور قدیم آثار اور جغرافیہ کے حوالے سے ایک محقّق، مؤرخ اور ادیب کی حیثیت سے پہچان بنائی۔

تاج محمد صحرائی کا اصل نام تاج محمد میمن تھا جو 14 ستمبر 1921ء کو شکار پور میں پیدا ہوئے۔ عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور کئی اخبارات سے وابستہ رہے جن میں ستارہ سندھ، جمہور اور آواز کے نام شامل ہیں۔ بعد ازاں تعلیم کے شعبے سے منسلک ہوئے۔ تاج محمد صحرائی مختلف تنظیموں سے وابستہ رہے اور علمی اور ادبی سرگرمیاں انجام دیں۔

29 اکتوبر 2002ء کو وفات پانے والے تاج صحرائی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔

تاج صحرائی 1921ء کو شکار پور میں پیدا ہوئے۔ والد کی ملازمت کے سلسلے میں انھیں دادو میں رہنا پڑا جہاں بعد میں بی اے اور بی ٹی کا امتحان پاس کیا۔ وہ پہلے پرائمری استاد بنے اور بعد میں ہائی اسکول دادو میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اور وہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔

ان کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب لیک منچھر بہت مشہور ہوئی۔ تاریخ اور سندھ کے جغرافیے اور قدیم آثار پر ان کی متعدد کتب شایع ہوئیں جب کہ ان کی چند تصانیف میں تصویر درد، سر سارنگ، سندھو تہذیب، قلندر لعل سیہوانی اور مختلف مضامین کا مجموعہ شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں