The news is by your side.

Advertisement

دلّی والے آغا صاحب جن سے علّامہ اقبال بھی زبان و بیان کے معاملے میں‌ رجوع کرتے تھے

آغا صاحب کے سیکڑوں شاگرد تھے اور علّامہ اقبال جیسی بلند مرتبہ ہستیاں اور ادیب و شاعر زبان و بیان کے معاملے میں ان سے رجوع کرتی تھیں۔ وہ استاد شاعر داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔ آغا شاعر قزلباش دہلوی خوش گوئی اور عمدہ نثر کی وجہ سے عوام اور خواص میں خاصے مقبول بھی تھے۔

تابش دہلوی نے اپنی کتاب دید و باز دید میں آغا صاحب کے بارے میں‌ لکھا: "دلّی کے بزرگ شعرا میں آغا قزلباش بڑے طباع اور دل چسپ شخصیت کے مالک تھے۔ جوانی میں غیرمعمولی خوب صورت رہے ہوں گے۔ بڑھاپے میں بھی سرخ و سفید تھے۔ وضع قطع سے بالکل دلّی والے معلوم نہیں ہوتے تھے۔

سَر پر پشاوری کلاہ دار پگڑی، اُٹنگی چھوٹی مہری کی شلوار، بند گلے کی قمیص اس پر لمبا کوٹ، پاؤں میں انگریزی جوتا اور ہاتھ میں موٹا ڈنڈا۔

آغا صاحب مشاعروں میں کم شریک ہوتے تھے۔ جب غزل پڑھنے کی باری آتی تو نہایت منمنی آواز میں ہائے آغا شاعر مر گیا، ارے مُردے کو کیوں گھسیٹ لائے کا نعرہ لگاتے اور ہائے ہائے کرتے شعر پڑھنے بیٹھ جاتے۔ غزل شروع کرنے سے پہلے فرماتے۔

صاحبو، میرا قاعدہ ہے کہ میں تبرکاً استاد کے دو اشعار پہلے پڑھا کرتا ہوں اور یہ کہہ کر داغؔ کے منتخب شعر نہایت پاٹ دار آواز میں پڑھتے۔

آغا صاحب نہایت عمدہ تحت اللفظ پڑھتے اور الفاظ اور لہجے کی تصویر بن جاتے۔ اس طرح وہ داغ کے شعروں سے مشاعرہ الٹ پلٹ کر دیتے اور داد کے اسی تأثر میں وہ اپنی غزل پر زیادہ داد حاصل کر لیتے۔”

آغا شاعر قزلباش دہلوی 11 مارچ 1940ء کو یہ نادرِ روزگار اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آج ان کی برسی ہے۔ دہلی ان کا وطن تھا، جہاں 5 مارچ 1871ء کو پیدا ہوئے۔ اصل نام آغا مظفر علی بیگ قزلباش تھا۔ ان کے جدِ اعلیٰ ان سپاہیوں میں تھے جو نادر شاہ کی فوج میں شامل ہو کر دہلی آئے اور وہیں کے ہو رہے۔ آغا صاحب کے والد بھی شاعر تھے جن کا تخلّص فدائی تھا اور ان کا گھرانہ آسودہ حال تھا۔ آغا شاعر اپنی ماں کے بہت لاڈلے تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ فارسی تو گھر کی زبان تھی۔ عربی اور قرآن کا درس حاصل کیا اور دہلی کی مشہور درس گاہ اینگلو عربک اسکول میں داخل کروائے گئے جہاں سے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ انھیں اسکول کے زمانہ میں ہی مضمون نویسی اور شاعری کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ اسی زمانے میں ان کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ والد نے دوسری شادی کر لی اور سوتیلی ماں کے ستم کا نشانہ بنے جس نے انھیں ایک روز گھر سے نکال دیا۔

اسے خوش قسمتی کہیے کہ اس زمانے کی ایک بیگم صاحبہ نے جو شاعرہ تھیں، انھیں پناہ ہی نہیں دی بلکہ خوش خط آغا صاحب کو اپنی غزلیں لکھنے کا کام بھی سونپ دیا۔ بعد میں انہی کے توسط سے علم و ادب سے وابستہ شخصیات سے میل جول بڑھا اور وہ اپنی خداداد صلاحیت اور محنت و ریاضت کی بدولت دہلی کے مشاعروں میں مقبول ہونے لگے۔ شاعر اور زبان دان کی حیثیت سے شہرت پاتے ہوئے ان کی غزلیں گانے والیوں کے کوٹھوں پر گونجنے لگیں اور یوں ان کا کلام گلی گلی پھیلا۔

اس دور میں حیدرآباد دکن میں داغ دہلوی موجود تھے جنھیں استاد تسلیم کیا جاتا تھا اور ہر طرف ان کا نام و شہرہ تھا۔ آغا شاعر قزلباش ان کے شاگرد ہوگئے اور وہیں سے شوخیٔ مضمون اور روزمرّہ کا بے تکلف استعمال آپ کے کلام کا جزوِ لازم بن گیا۔

آغا شاعر قزلباش ایک اچھے نثر نگار بھی تھے۔ انھوں نے ڈرامہ نویسی بھی کی جن میں حورِ عرب بہت مشہور ہوا۔ آغا صاحب نے قرآنِ پاک کا منظوم ترجمہ بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ عمر خیام کے رباعیات کو بھی اردو میں نظم کیا۔ نثری مجموعہ خمارستان کے ساتھ ان کی شعری تصانیف تیر و نشر، آویزۂ گوش، دامنِ مریم اور پرواز کے نام سے شایع ہوئیں۔ آغا صاحب گوناگوں صلاحیتوں کے مالک تھے۔ غزلوں کے علاوہ ان کی نظمیں، مرثیے اور منظوم تراجم بھی بہت مقبول ہوئے۔

انھوں نے مہاراجہ کشن پرشاد شاد، کلکتہ میں سفیرِ ایران نصیرُ الملک مرزا شجاعت علی بیگ، راجہ جھالا واڑ (راجستھان) راج رانا بھوانی سنگھ، خیر پور (سندھ) کے والی نواب میر علی نواز خاں تالپور کے دربار میں بڑی عزّت پائی اور وظیفہ حاصل کیا۔

اردو کے اس مشہور شاعر کو دکن میں صفدر جنگ کے قریب قبرستان درگاہ شاہِ مرداں میں سپردِ خاک کیا گیا تھا، لیکن ان کے مدفن کا کوئی نشان باقی نہیں۔

ان کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے

پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھا
روٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا

لو ہم بتائیں غنچہ و گل میں ہے فرق کیا
اک بات ہے کہی ہوئی اک بے کہی ہوئی

کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح
یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا

Comments

یہ بھی پڑھیں