The news is by your side.

Advertisement

یومِ وفات: معروف شاعر اور ڈراما نگار قیوم نظر آج ‘زندگی سے بارِ دگر آشنا ہوئے’

اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر، نقّاد، مترجم اور ڈرامہ نگار قیوم نظر 23 جون 1989ء کو کراچی میں وفات پا گئے تھے۔ ان کا شمار اردو ادب کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے حلقۂ اربابِ ذوق جیسی تنظیم کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

قیوم نظر 7 مارچ 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبدالقیوم تھا۔ وہ 1944ء سے 1955ء تک حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری رہے۔ تدریس کے پیشے سے منسلک رہنے والے قیوم نظر گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ اردو اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ پنجابی میں طلبا کو نصابی تعلیم اور ان کی فکری راہ نمائی کا کام انجام دیتے رہے۔

قیوم نظر کی شاعری میں اردو کی کلاسیکی شاعری کا گہرا اثر نظر‌ آتا ہے۔ انھوں نے اردو غزل کو ایک نیا مزاج، نیا آہنگ عطا کیا۔ وہ میر تقی میر اور فانی بدایونی سے متاثر تھے۔ تاہم روایتی بندشوں کے ساتھ ان کی شاعری میں فطرت کے تجربات اچھوتے اور تازہ ہیں۔

قیوم نظر کی تصانیف میں “پون جھکولے”، “قندیل”، “سویدا”، “اردو نثر انیسویں صدی میں”، “زندہ ہے لاہور “اور “امانت ” شامل ہیں۔ انھوں نے بچّوں کے لیے ایک کتاب “بلبل کا بچہ ” بھی لکھی۔

قیوم نظر کو لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں