The news is by your side.

Advertisement

یوری ایونری: فلسطینیوں کا ہم درد جسے ساری زندگی اسرائیلی انتہا پسند مطعون کرتے رہے

فلسطینی عربوں اور اسرائیل کے امن پسند یہودیوں میں یوری ایونری کی مقبولیت اور پسندیدگی کی وجہ انسانی حقوق اور قیامِ امن کے لیے ان کی کوششیں ہیں۔ انھوں نے 2018ء میں آج ہی کے دن ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لی تھیں۔

94 برس کی عمر میں وفات پانے والے ایونری جرمنی میں 10 ستمبر 1923ء کو پیدا ہوئے۔ اان کا اصل نام ہیلمٹ اوسٹر مین تھا۔ جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کی قیادت میں نیشنل سوشلسٹ پارٹی کے اقتدار کے بعد ان کا خاندان 1933ء میں فلسطین ہجرت کر گیا۔ وہاں ایونری نے اسرائیلی مملکت کے لیے کام کیا، لیکن کم عمری ہی میں انھوں نے عربوں سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کی خواہش کا اظہار شروع کردیا، اور جلد ہی انھیں یہ احساس ہوگیا کہ اسرائیلی انتہا پسندوں کی وجہ سے خطّے کے امن اور فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ انھوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے اپنے قلم کی طاقت کو اسرائیلی درندگی اور سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا۔

بعد کے برسوں میں وہ مشرقِ‌ وسطیٰ میں تنازع کے حل اور انسانی حقوق کے ممتاز کارکن کے طور پر ابھرے اور فلسطینیوں کی توجہ حاصل کرلی۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں تنازع کے منصفانہ حل کے لیے جدوجہد میں گزاری اور اپنی امن کوششوں پر کئی ایوارڈز حاصل کیے۔

وہ ایک صحافی اور ایسے مضمون نگار، کالم نویس تھے جنھوں نے نہ صرف قیامِ امن اور پائیدار حل کے حوالے سے تجاویز پیش کیں بلکہ اسرائیل کے ظلم و ستم اور عربوں کے خلاف سازشوں کو بھی بے نقاب کرتے رہے۔ وہ انتہائی دائیں اور یہودی انتہا پسندوں سے یکساں طور پر نفرت کرتے تھے۔

ایونری 1948 میں پہلی عرب اسرائیل جنگ کے دوران شدید زخمی بھی ہوئے تھے۔ جون 1967 میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان چھے روزہ جنگ کے بعد وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کے پُرجوش حامی بن گئے اور انھیں اسرائیلی قدامت پسندوں غدار کہنا شروع کردیا تھا۔

ایونری نے 1965 سے اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے تین مدات تک خدمات انجام دیں اور فلسطینیوں کے ساتھ پائیدار اور منصفانہ امن کی ضرورت کا دفاع کرتے رہے۔

یوری ایونری کو فلسطین کی اعزازی شہریت بھی دی گئی تھی۔ ان کے مضامین اور سیاسی رپورٹیں مختلف اخبارات میں شایع ہوتی رہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں