The news is by your side.

Advertisement

ماہر موسیقار اور گلوکار استاد مبارک علی خان کی برسی

استاد مبارک علی خان پاکستان کے نام وَر موسیقار اور گلوکار تھے جن کی آج برسی منائی جارہی ہے۔ وہ 21 اکتوبر 1957ء کو کراچی میں وفات پاگئے تھے۔

مبارک علی خان کا گھرانا موسیقی اور گائیکی کے لیے مشہور تھا۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا جہاں انھوں نے 1917ء میں آنکھ کھولی۔ وہ استاد علی بخش خان کے فرزند اور استاد برکت علی خان اور استاد بڑے غلام علی خان کے چھوٹے بھائی تھے۔

مبارک علی خان نے 1938ء میں فلمی دنیا سے وابستگی اختیار کی، لیکن سفر کے آغاز پر انھوں نے گلوکار ہی نہیں بلکہ اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کو آزماتے ہوئے بطور ہیرو بھی کام کیا تھا۔ یہ مہارانی اور سوہنی کمہارن نامی فلمیں تھیں جو انڈسٹری میں ان کا تعارف ثابت ہوئیں۔

قیام پاکستان کے بعد استاد مبارک علی خان کو فلم دو آنسو اور شالیمار کی موسیقی بھی ترتیب دینے کا موقع ملا۔ وہ موسیقی میں اپنے والد استاد علی بخش خان، بڑے بھائی استاد بڑے غلام علی خان اور استاد سردار خان دہلی والے کے شاگرد رہے۔

استاد مبارک علی خان نے اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے بعد سیکڑوں لوگوں کو موسیقی کی تعلیم دی اور فن کاروں کو موسیقی اور گائیکی کی تربیت دی۔ انھوں نے کلاسیکل، دھرپد، خیال، دادرا، ٹھمری، غزل اور گیت میں اپنے فن کو منوایا۔

استاد مبارک علی خان لاہورمیں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں