The news is by your side.

Advertisement

یومِ وفات: اردو کی ترقّی میں اولیائے سندھ کا حصّہ ڈاکٹر وفا راشدی کی مشہور تصنیف ہے

معروف ادیب، شاعر، محقّق اور نقّاد ڈاکٹر وفا راشدی کی تصانیف اردو کی ترقّی میں اولیائے سندھ کا حصّہ اور بنگال میں اردو کو علمی و ادبی حلقوں میں‌ خاصی پذیرائی ملی۔ اس کے علاوہ بھی ان کی متعدد کتب اردو زبان و ادب کا سرمایہ ہیں۔ وفا راشدی نے 2003ء میں آج ہی کے دن وفات پائی۔

ان کا اصل نام عبد الستار خان تھا۔ یکم مارچ 1926ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ سے میٹرک کے بعد کلکتہ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ اردو میں‌ ایم اے کی ڈگری بھی اسی جامعہ سے لی۔ انھوں‌ نے پی ایچ ڈی کا مقالہ اردو کی ترقّی میں اولیائے سندھ کا حصّہ جیسے موضوع پر لکھا اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔

وفا راشدی نے شاعری کا آغاز لڑکپن میں کیا اور بعد میں وحشت کلکتوی سے اصلاح‌ لینے لگے۔ شاعری کے ساتھ وہ تحقیق و تاریخ کی طرف راغب ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد مشرقی پاکستان منتقل ہو گئے۔ وہاں بنگال میں اردو کے عنوان سے ان کی تحقیقی کتاب 1955ء میں شائع ہوئی۔ مشرقی پاکستان کی تاریخ و ثقافت پر ان کی دوسری کتاب سنہرا دیس کے نام سے منظرِ عام پر آئی۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ڈاکٹر وفا راشدی لاہور چلے آئے اور یہاں صحافت سے وابستہ ہوگئے۔ بعد ازاں کوٹری اور حیدر آباد، سندھ میں‌ رہائش اختیار کی اور پھر مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے جہاں ٹیلی کمیونیکیشن ٹریننگ اسکول سے منسلک ہو گئے۔ انھوں‌ نے انجمن ترقّیِ اردو پاکستان کے لیے بھی بحیثیت سینئر اسکالر خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر وفا راشدی کراچی کے ایک قبرستان میں‌ آسودہ خاک ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں