The news is by your side.

Advertisement

فطرت کا شاعر، رومانوی تحریک کا نمائندہ ولیم ورڈز ورتھ

فطرت کا دلدادہ شاعر ولیم ورڈزورتھ (William Wordsworth) 23 اپریل 1850ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگیا تھا، لیکن آج بھی اس کی نظمیں‌ بڑے ذوق و شوق سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں اور قاری خود کو فطرت کی گود میں سانس لیتا ہوا محسوس کرتا ہے۔

ورڈز ورتھ نے حقیقی اور عام زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو نظموں کا حصہ بنایا۔ اس کی نظم میں سادہ بیانی، علاقائی رنگ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ورڈز ورتھ رومانویت اور رومانوی تحریک کا نمائندہ تصور کیا جاتا ہے۔

وہ 7 اپریل 1770ء کو انگلستان کے متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ زندگی کے ابتدائی چند سال گزارے تھے کہ ماں باپ فوت ہو گئے اور چچا نے اس کی پرورش کی۔ اس نے اسکول میں داخلہ لیا تو وہاں فطرت کے خوب صورت نظارے دیکھنے اور ہرے بھرے ماحول میں وقت گزاتے ہوئے اس نے سبزہ و گل اور رنگ و بُو میں عجیب کشش پائی، یہ گویا فطرت سے اس کے لگاؤ اور محبّت کا آغاز تھا۔

وہ فرانس اور سوئٹزر لینڈ کی سیر کو گیا، جرمنی گیا اور فرانسیسی زبان بھی سیکھی۔ انقلابِ فرانس سے متاثر رہا اور بعد میں بدظن ہوگیا۔ اس نے ساری عمر شاعری کی اور سیر و سیّاحت کے دوران فطرت کو قریب سے دیکھنے کے ساتھ مختلف نظریات اور فنون کے بارے میں‌ سیکھتا اور جانتا رہا۔ اس کی شاعری کا شہرہ یہاں تک تھا کہ ایک یونیورسٹی نے اسے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔

ولیم ورڈز ورتھ نے شاعری کے ساتھ تنقیدی نظریات تشکیل دیے اور ادبی تحریک کو جنم دیا۔ وہ اپنی شاعری اور تنقیدی نظریات میں ترمیم و اضافہ کرتا رہا اور انھیں‌ شایع بھی کروایا۔ اس کی شاعری میں عام فہم اور سادہ زبان سے اس کے ہم عصر اختلاف بھی کرتے تھے۔

اس شاعر نے قدیم اور روایتی شاعری سے دامن چھڑا کر رومانوی تحریک کو تقویت بخشی اور یہ سلسلہ بعد میں ساری دنیا میں پھیل گیا۔ انگریزی زبان میں تنقید میں اس نے شاعری کے موضوعات اور زبان پر کھل کر بحث کی جب کہ فطرت اور انسانوں کے ساتھ شاعری میں تخیل کی اہمیت کو واضح کیا۔

دنیا میں ولیم ورڈز ورتھ کو بحیثیت شاعر اور نقّاد اہم مقام حاصل ہے اور اسے ایک ایسا شاعر مانا جاتا ہے جس نے سب سے منفرد اور عام ڈگر سے ہٹ کر روش اختیار کی اور مقبول ہوا۔

وفات کے وقت اس شاعرِ‌ فطرت و رومان کی عمر 80 سال تھی۔ اس کی موت کی وجہ نمونیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں