اردو شاعری کے دورِ جدید میں جن غزل گو شعراء نے اپنے طرزِ بیان اور شاعری کی خصوصیات کی بناء پر امتیازی شہرت پائی، ان میں حسرت موہانی کا نام سرفہرست ہے۔ وہ ہندوستان کے مقبول شاعر ہی نہیں ایک جرأت مند سیاست داں اور صحافی بھی تھے۔ انھوں نے تحریکِ آزادی میں عملاً حصّہ لیا اور وہ اپنے سیاسی نظریات اور مؤقف پر ڈٹے رہنے والے سیاست دانوں میں سے ایک تھے۔
حسرت کا اصل نام سید فضل الحسن تھا۔ ان کا تخلص حسرت تھا۔ حسرت کا وطن قصبہ موہان ضلع اناؤ تھا۔ 1875ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کر کے علی گڑھ گئے اور وہاں سے 1903ء میں بی اے پاس کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رسالہ اُردوئے معلی نکالا اور باقاعدہ صحافت شروع کی جو ان کے لیے ایک مشن تھا۔ اس رسالہ میں ادبی مضامین کے ساتھ ساتھ سیاسی مضامین بھی ہوتے تھے اور حسرت بھی اپنے افکار کا بے باکانہ اظہار کرتے تھے۔ 1905ء میں انھوں نے آل انڈیا کانفرنس میں حصہ لیا اور اسی وقت سے وہ سودیشی تحریک کے ممبر بن گئے۔ 1907ء میں حسرت کانگریس سے علیحدہ ہوگئے۔ 1908ء میں اُردوئے معلی میں حکومت کے خلاف ایک مضمون چھاپنے کی پاداش میں قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ دو سال قید رہنے کے بعد 1910ء میں رہا ہوئے۔ پرچہ دوبارہ جاری کیا لیکن 1904ء میں گورنمنٹ نے پھر بند کر دیا۔ مجبور ہو کر سودیشی مال کا ایک اسٹور قائم کیا۔ اسی زمانے میں جماعت احرار نے جنم لیا۔ مولانا حسرت موہانی اس کے ایک سرگرم کارکن بن گئے۔ اسی نسبت سے رئیس الاحرار بھی کہلائے۔ وہ آزادی کے بہت بڑے داعی تھے اور اپنی سیاسی سرگرمیوں اور قلم کی وجہ سے معتوب رہے۔ 1919ء میں انھیں پھر گرفتاری دینا پڑی۔ ترک موالات کی تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے 1922ء میں تیسری مرتبہ دو سال کے لئے قید ہوگئی۔ 1935ء میں اردوئے معلی پھر جاری کیا۔ 1936ء میں مسلم لیگ کی نظم جدید سے وابستہ ہوگئے۔ تقسیم ہند کے بعد حسرت ہندوستان ہی میں رہے اور وہاں کے مسلمانوں کا سہارا بنے رہے۔ ان کے نظریات عجیب و غریب تھے۔ ایک طرف وہ سوشلزم کے قائل تھے۔ دوسری جانب ان کی زندگی ایک مرد مومن کی زندگی تھی۔ ان کا ظاہر و باطن یکساں تھا۔ وہ حق بات کہنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔
اُن کی تصانیف میں اپنے کلیات کے علا وہ دیوان غالب کی شرح بے حد مقبول ہوئی۔ آج مولانا حسرت موہانی کی برسی ہے۔ ان کا انتقال 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں ہوا تھا۔
نقاد اور ماہر لسانیات گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ نیاز فتح پوری نے جنوری ۱۹۵۲ء میں سات آٹھ ماہ کے اندر اندر نگار کا ’’حسرت نمبر‘‘ ان کی یاد کے شایان شان شائع کر دیا۔ نیاز نے اس نمبر کے لیے اس زمانے کی تمام بڑی شخصیتوں سے مضامین لکھوائے، مثلاً، مجنوں گورکھپوری، رشید احمد صدیقی، فراق گورکھپوری، آل احمد سرور، احتشام حسین، عبادت بریلوی، کشن پرشاد کول اور خواجہ احمد فاروقی۔ خود نیاز نے اس یادگار نمبر میں پانچ حصے قلم بند کیے اور تذکرۂ حسرت اور انتخاب کلام حسرت کے علاوہ ’’حسرت کی خصوصیات شاعری‘‘ کے عنوان سے جامع مضمون بھی لکھا۔
واقعات جنگِ آزادی ۱۸۵۷ء کے بعد حسرت موہانی اردو شاعروں میں شاید پہلے سیاسی قیدی تھے۔ وہ واقعہ جس پر انھیں قید بامشقت کی سزا ہوئی تھی اب تاریخ کا حصہ ہے۔ ۱۹۰۸ء میں رسالہ اردوئے معلیٰ میں ایک مضمون مصر کے نامور لیڈر مصطفی کمال کی موت پر شائع ہوا جس میں مصر میں انگریزوں کی پالیسی پر بے لاگ تنقید تھی۔ یہ مضمون انگریز سرکار کی نظر میں قابل اعتراض ٹھہرا۔ بقول سید سلیمان ندوی، ’’علی گڑھ کی سلطنت میں بغاوت کا یہ پہلا جرم تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علی گڑھ کالج کی حرمت کو بچانے کے لیے کالج کے بڑے بڑے ذمہ داروں نے حسرت کے خلاف گواہی دی۔ یہاں تک کہ نواب وقار الملک نے بھی مضمون کی مذمت کی۔ حسرت کو دو برس کی قید سخت کی سزا ہوئی۔ ان کا کتب خانہ اور پریس پولیس کے ظلم وستم کی نذر ہو گیا۔‘‘
اس سانحے کا دلچسپ پہلو جس سے حسرت کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے، یہ ہے کہ مضمون حسرت کا نہ تھا۔ مضمون پر کسی کا نام نہیں تھا۔ باوجود اصرار کے حسرت نے اس کے لکھنے والے کا نام نہیں بتایا۔
حسرت کا یہ شعر مشہور ہے
ہے مشق سخن جاری، چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے، حسرت کی طبیعت بھی
اردو کے ممتاز ترقی پسند نقاد، اور افسانہ نگار مجنوں گورکھپوری نے حسرت کے بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جس سے چند پارے ملاحظہ کیجیے:
حسرتؔ کی شاعری جس وقت شروع ہوئی اُس وقت امیرؔ اور داغؔ ہر طرف چھائے ہوئے تھے، گوشہ گوشہ میں انہیں کی تقلید ہو رہی تھی، اردو غزل میں کوئی نیا امکان نظر نہیں آ رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری غزل اپنے تمام بہترین امکانات بروئے کار لا چکی ہے اور اب اس میں صرف انحطاط کا امکان باقی ہے۔ اسی اثناء میں حسرتؔ کی آواز کان میں پڑتی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ اردو غزل میں کہیں سے زندگی کی نئی لہر آ گئی ہے، جس نے اس کے اندر نئی توانائیاں پیدا کر دی ہیں۔ حسرتؔ کے تغزل کو متعین کرنا اور اس کو کوئی ایک نام دینا بہت دشوار ہے۔ اس لئے کہ وہ ’’بسیار شیوہ ہستِ بتاں را کہ نام نیست‘‘ کے عنوان کی چیز ہے۔
نیازؔ صاحب کا یہ کہنا اس لحاظ سے بہت صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ’’ہندوستان میں اس وقت حسرتؔ ہی وہ شاعر ہے جس کے کلام کی داد سوائے خاموشی اور کسی طرح نہیں دی جا سکتی۔‘‘ بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ حسرتؔ جدید اردو غزل کے امام ہیں اور نئے دور کے نئے رجحانات کا صحیح شعور رکھتے ہیں، انہوں نے اپنے نفس شعری کی تربیت ان انبیائے غزل کے مطالعہ سے کی جن کی بدولت آج اردو غزل، اردو غزل ہوئی ہے۔
حسرتؔ کے کلام میں ان کی اپنی فطری اپج کے ساتھ قدماء کے بہترین عناصر نے مل کر ایک عجیب مکمل اور پختہ آہنگ پیدا کر دیا ہے جس کا دوبارہ تجربہ نہیں کیا جا سکتا، وہ خود تسلیم کے واسطے خاندانِ مومنؔ سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ظاہری اور رسمی بات ہے، ان کے کلام میں میر مصحفیؔ، جرأت اور مومنؔ کا رنگ حسرتؔ کے اپنے رنگ کے ساتھ مل کر ان کے تغزل کی کیمیاوی ترکیب بن گیا ہے۔
لیکن حسرتؔ کو تقلیدی شاعر سمجھنا بڑی فاش غلطی ہوگی۔ ان کا انتخابی تغزل (Lyricism) اپنے عنوان کی ایک بالکل نئی چیز ہے، جو نہ تقلید سے پیدا ہو سکتی ہے اور نہ جس کی تقلید کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید نسل کا ہر غزل گو شاعر شعوری یا غیر شعوری طور پر حسرتؔ سے متاثر ضرور ہوا ہے لیکن کوئی ان کی تقلید نہیں کر سکا۔
کٹ گئی احتیاطِ عشق میں عمر
ہم سے اظہار مدعانہ ہوا
تم جفا کار تھے کرم نہ کیا
میں وفادار تھا خفا نہ ہوا
شوق جب حد سے گزر جائے تو ہوتا ہے یہی
ورنہ ہم اور کرمِ یار کی پروا نہ کریں
حال کھل جائےگا بے تابی دل کا حسرتؔ
بار بار آپ انہیں شوق سے دیکھا نہ کریں
آپ کا شوق بھی تو اب دل میں
آپ کی یاد کے سوا نہ رہا
آرزو تیری برقرار رہی
دل کا کیا رہا رہا نہ رہا
راہ و رسم وفا وہ بھول گئے
اب ہمیں بھی کوئی گلا نہ رہا
کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہے حسرت
ان سے مل کر بھی نہ اظہار تمنا کرنا
سب سے شوخی ہے ایک ہمیں سے حیا
اے فریبِ نگاہِ یار یہ کیا
کسی پر مٹ کے رہ جاتا ہے حسرتؔ
ہمیں کیا کام عمر جاوداں سے
حسرت جفائے یار کو سمجھا جو تو وفا
آئین اشتیاق میں یہ بھی روا ہے کیا
ان اشعار سے یہ اثر ہوتا ہے کہ شاعر شعورِ حسن و عشق کی تمام منزلیں طے کئے بیٹھا ہے اور اب اس کے اندر ایک عارفانہ بے نیازی پیدا ہو گئی ہے۔ ضبط و توازن، اعتماد و اطمینان، سنجیدہ اور بے شکن تیور بیک وقت تعلق اور بے تعلقی کا احساس، جس کو تصوف یا ترک کی مجہولیت سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ جو انسانی درک و بصیرت کی صحیح و آخری بلندی ہے۔ یہ ہیں وہ نقش جو حسرتؔ کی غزلیں ہر شخص پر چھوڑ جاتی ہیں جس کے اندر غزل کا مہذب مذاق موجود ہے اور جو صرف اپنے مطالعے کی وسعت اور کثرت کے زور سے شاعری کا مبصر نہیں بنا ہے۔
آخر میں جو بات حسرتؔ کے بارے میں یاد رکھنے کے قابل ہے، وہ یہ ہے کہ اردو غزل گوئی کی تاریخ میں حسرتؔ پہلے شاعر ہیں جن کا کلام غزل کے تمام خصوصیات و لوازم کا حامل ہوتے ہوئے بھی یاس انگیز نہیں ہوتا۔ ان کے مسلک کو کسی طرح قنوطیت نہیں کہہ سکتے، اگرچہ ان کے اشعار میں نہایت پختہ اور بلیغ قسم کا سوز و گداز ہوتا ہے جو اکثر میرؔ کے لب و لہجے سے مل جاتا ہے۔ حسرتؔ کی شاعری اس منزل کی چیز ہے جہا ں رنج و خوشی بچوں کی اصطلاحیں معلوم ہوتی ہیں، جہاں آنکھوں میں آنسو آتے آتے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ جاتی ہے اور مسکراتے مسکراتے آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا جاتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


