The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں‌ 17 سال بعد قیدی کو زہریلے انجیکشن سے سزائے موت

واشنگٹن: امریکا میں سپریم کورٹ کے حکم پر 17 سال بعد پہلے مجرم کو زہریلا انجیکشن دے کر سزائے موت دے دی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے عدالت عالیہ کی جانب سے اجازت ملنے کے ایک گھنٹے بعد ڈینیئل لیوس نامی قیدی کو 17 سال بعد مہلک انجیکشن لگا کر  سزائے موت دے دی۔

پیر کے روز جج نے فیصلہ سنایا کہ پھانسی کے حوالے سے اب بھی حل طلب قانونی چیلنجز موجود ہیں جس کی وجہ سے متعدد مجرمان کی پھانسیوں میں تاخیر ہورہی ہے۔

قیدیوں نے زہریلے یا مہلک انجیکشن سے سزائے موت دینے کے فیصلے کو غیر قانونی ، غیر آئینی اور ظالمانہ قرار دیا مگر سپریم کورٹ کے بینچ کے پانچ میں سے چار ججز نے اسی طرح سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا۔

مزید پڑھیں: زوم کال پر سزائے موت

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی اٹارنی جنرل نے فیڈرل بیورو آف پریزنز  نے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار کا کہنا تھا کہ 2003 سے سزائے موت کے منتظر قیدیوں سے متعلق احکامات جاری کردیے گئے،  شیڈول کے مطابق 13 جولائی کو سب سے پہلے ڈینیئل لیوس کو سزائے موت دی جائے گی جبکہ 15 جولائی کو مجرم ویسلی پورکی، 17 جولائی کو ڈسٹن بنکن اور 28 اگست کو کوکیتھ نیلسن نامی مجرم کو موت کی سزا دی جائے گی۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سزائے موت پانے والے مجرم ڈینیئل لیوس نے 1996 میں امریکی ریاست آرکنساس میں ایک خاندان کے تین افراد کو قتل کرنے کے بعد اُن کی لاشیں دریا میں پھینک دی تھیں۔

ڈینیئل لیوس نے یہ قتل نسلی تعصب کی بنیاد پر کیا تھا اور اُس نے اعتراف کیا تھا کہ لوگوں کو قتل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شمال مغربی علاقے میں سفید فام شہریوں کے علاوہ کوئی اور قوم آباد نہ ہوسکے۔ مجرم کے اہل خانہ اور وکیل نے سزائے موت پر شدید اعتراف اٹھایا تھا مگر سپریم کورٹ نے اُسے مسترد کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کس ملک میں کیسے سزائے موت دی جاتی ہے؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 47 سالہ ڈینیئل لیوس کو انڈیانا کے ٹیری ہوٹی میں واقع فیڈرل جیل میں مہلک انجیکشن دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق مجرم نے سزائے موت سے قبل پھر اس بات کو دہرایا کہ وہ بے گناہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈینیئل کے آخری الفاظ یہ تھے کہ ’میں نے اپنی زندگی میں بہت ساری سنگین غلطیاں کیں مگر یہ قتل نہیں کیا، میں قاتل نہیں ہوں، تم لوگ ایک معصوم شخص کو سزائے موت دے رہے ہو‘۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو انتہائی زہریلے انجیکشن سے سزائے موت دینے کا اعلان کیا تھا جس پر عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے اُسے روک دیا تھا۔

بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کے خلاف ایک درخواست دائر کی جس کا فیصلہ اپریل میں آیا۔ امریکی عدالت برائے کولمبیا سرکٹ نے ضلعی جج کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے چار ملزمان کی سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں