The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی پہلی عجیب و غریب خاتون : جسے دیکھا تو سب نے ہے پہچانتا کوئی نہیں

آپ نے شاید کبھی بھی (دریائے سین کی ایک بے نام خاتون) کے بارے میں سنا نہیں ہوگا مگر اس کی شکل دنیا بھر کے کروڑوں افراد ضرور پہچانتے ہیں۔

جی ہاں 1880 کی دہائی میں پیرس کے دریائے سین میں ایک نوجوان خاتون کی لاش دریافت ہوئی اور کبھی معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کا نام کیا تھا اور اس کے ساتھ کیا ہوا۔

بس یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس نے خودکشی کی اور آج تک اس کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی مگر حیران کن طور پر اس کا چہرہ ضرور اب بھی کروڑوں افراد کے لیے جانا پہچانا ہے بالخصوص وہ لوگ جو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے دریائے سین میں دریافت ہونے والی خاتون کے بارے میں کچھ جان لیں۔ آج کے دور میں کسی گمشدہ یا نامعلوم فرد کا چہرہ اخبارات، ٹی وی یا انٹرنیٹ پر پوسٹ کردیا جاتا ہے مگر 1881 میں فرانس میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔

اس وقت ایسے نامعلوم افراد کی شناخت کے لیے حکام کی جانب سے لاش کو قبضے میں لے لیا جاتا اور ایک سرد کمرے میں کھڑکی کے سامنے رکھ دیا جاتا تاکہ لوگ دیکھ کر شناخت کرسکے۔

ایسی لاشوں کا کھڑکی سے نظارہ اس زمانے میں حیران کن طور پر مقبول تھا اور پیرس میں اس زمانے میں یہ سب سے مقبول کھڑکی تھی جہاں لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔

مگر اس نامعلوم خاتون کی لاش کو کوئی پہچان نہیں سکا جس کے بارے میں خیال کیا جارہا تھا کہ اس کی عمر 16 سے 20 سال کے درمیان ہوسکتی ہے اور اس وقت ہی اسے سین کی نامعلوم خاتون کا نام دیا گیا۔

رونگٹے کھڑے کردینے والی کہانی : اپنا ہاتھ کاٹ کر خود کو بچانے والے شخص کی رونگٹے کھڑے کردینے والی داستان بعد ازاں لاش کو ایک قبر میں رکھ دیا گیا مگر اس سے قبل ایک فرد نے کچھ خاتون سے کچھ ایسا لیا جو اس کی موت کے 140 سال بعد بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رکھے ہوئے ہے اور وہ ہے اس کا چہرہ۔

مردہ خانے میں لاشوں کا پوسٹمارٹم کرنے والے ایک ماہر نے پتا نہیں کیوں پلاستر آف پیرس سے اس کے چہرے کا ‘ڈیتھ ماسک’ تیار کیا۔ مگر اس حوالے سے ایک کہانی مقبول ہے جس کے مطابق وہ ماہر خاتون کی خوبصورتی اور چہرے کے تاثرات سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے چہرے کا ماسک بنانے کا فیصلہ کیا۔

خیر وجہ جو بھی ہو یہ فیس ماسک مردہ خانے سے باہر جانے کے بعد بہت زیادہ مقبول ہوا اور عام فروخت کے لیے بھی ایسے ماسکس بننے لگے۔ اس مردہ خاتون کا چہرہ عوام کے دلوں میں گھر کرگیا بلکہ فنکاروں اور مصنفین بھی اس کے مداح ہوگئے تھے۔

سین کی نامعلوم خاتون پر کہانیاں لکھی گئیں، ایسے ناول تحریر ہوئے جس میں بتایا گیا کہ اس کا قتل کیسا ہوا یا وہ کیسے خود کو ڈبونے کے لیے دریا پر آئی۔ درحقیقت یہ ماسک اس زمانے میں پیرس میں ایک ایسی چیز بن گیا جس کی بظاہر ہر ایک کو ضرورت تھی۔ یہاں تک کہ اس ڈیتھ ماسک پر ایک ڈراؤنی کہانی بھی ہے کہ یہ کس طرح متعدد افراد کو ہلاک کرچکا ہے۔

مگر دہائیوں تک اس چہرے کی مقبولیت پیرس یا ارگرد کے قصبوں تک ہی رہی مگر 1950 کی دہائی میں ایک کھلونے بنانے والے ادارے نے اس چہرے کو نرم پلاسٹک کی گڑیا کے چہرے کے طور پر استعمال کیا اور اس گڑیا کو اینی کا نام دیا۔ اس چہرے کے منتخب ہونے کا قصہ بھی بہت عجیب ہے۔

انیس سو پچاس کی دہائی میں میڈیکل کے طالبعلموں نے سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسسیٹیشن ) کو سیکھنا شروع کیا تھا اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سی پی آر کمیٹی کے رکن آرچر گورڈن کو احساس ہوا کہ اس حوالے سے ایک ڈمی طالبعلموں کو غیرضروری تکلیف اور کسی رضاکار کی پسلیوں کو نقصان سے بچاسکتی ہے۔

اس ڈمی کی تیاری کے لیے آرچر گورڈن اور ان کے ساتھیوں نے ناروے کے کھلونے بنانے والے ایسمنڈ ایس لیرڈال نامی شخص سے مدد کی درخواست کی جس کا اپنا بیٹا 2 سال کی عمر میں ڈوبتے ڈوبتے بچا تھا۔

اس شخص نے دریائے سین کی نامعلوم خاتون کا چہرہ اپنے ایک رشتے دار کے گھر کی دیوار پر دیکھا ہوا تھا اور اس نے سی پی آر ڈول کو وہی چہرہ دینے کا فیصلہ کیا۔

1960 میں اس کے کمپنین نے پہلی سی پی آر ڈمی تیار کی جسے ریسکیوئی اینی کا نام دیا گیا، درحقیقت وہ پہلے بھی گڑیا بناتا رہا تھا جسے اینی کا نام دیا گیا تھا۔

اس پی سی آر ڈول کے لیے نرم پلاسٹک استعمال کیا گیا تھا تاکہ طالبعلم سانس کی بحالی کے سینے پر مخصوص دباؤ کی مشق کرسکیں یا ہونٹوں کو کھول کر منہ سے سانس دینا سیکھ سکیں۔

اس چہرے پر بننے والی پی سی آر ڈمیاں — فوٹو بشکریہ جرنل بی ایم جے جب سے دنیا بھر میں اس طرح کی پی سی آر ڈمیوں کو استعمال کیا جارہا ہے اور کمپنی کا تخمینہ ہے کہ 30 کروڑ افراد کو سی پی آر ی تربیت دی جاچکی ہے جن میں سے بیشتر نے اینی ڈول سے مدد لی۔

ان میں اسے ایک شخص معروف گلوکار مائیکل جیکسن بھی تھے جنہوں نے اپنے ایک گانے ‘اسموتھ کرمنل’ میں اینی آر یو اوکے کا جملہ بھی شامل کیا۔ ویسے یہ جملہ سی پی آر کی تربیت کے دوران بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس طرح سین کی اس نامعلوم خاتون کا چہرہ اتنے برسوں بعد بھی زندہ ہے اور ایک انداے کے مطابق اس کے چہرے سے سجی ڈمی پر تربیت حاصل کرنے والوں نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیاں سی پی آر کی مدد سے بچائی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں