The news is by your side.

Advertisement

ذہنی مریض ہونے کا خدشہ، پھانسی کے ملزم کی سزا رکوا دی گئی

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت پانے والے خضر حیات کے ڈیتھ وارنٹ پر عمل درآمد کو روک دیا ہے، ملزم کو 17 جنوری کو پھانسی دی جانی تھی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ملزم خضر حیات کے ڈیتھ وارنٹ پر عمل در آمد روکنے کا حکم ملزم کی والدہ اقبال بانو کی درخواست پر دیا جس میں ڈیتھ وارنٹ کو چینلج کرتے ہوئے استدعا کی گئی تھی کہ ان کا بیٹا ذہنی مریض ہے اس لیے پھانسی کی سزا کو معطل جائے۔

قبل ازیں خضر حیات کی والدہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ خضر حیات سنہ 2008 سے ذہنی اعتبار سے بیمار ہیں اور انھیں کئی مرتبہ علاج کے لیے ہسپتال بھی داخل کرایا گیا۔

سماعت کے دوران وکیل سارہ بلال نے اپنے دلائل میں کہا کہ خضر حیات کی ذہنی بیماری کی وجہ سے سزائے موت پر عمل درآمد رکوانے کے لیے درخواست لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اس کے باوجود ڈیتھ وارنٹ کا اجراء حیران کن ہے۔

دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے محکمہ داخلہ کو نوٹس جاری کر تے ہوئے 17 جنوری کو پھانسی دیئے جانے کی سزا کو کروادیا ہے، اگلی سماعت پندرہ روز بعد ہو گی۔

واضح رہے 55 سالہ پولیس افسر خضر حیات پر اپنے ساتھی پولیس کانسٹبل کے قتل کا الزام تھا جس پرمقامی عدالت نے 2003 میں خضر حیات کو موت کی سزا سنائی تھی، مقتول پولیس کانسٹبل ملزم خضر حیات کا دوست بھی تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں