The news is by your side.

اردو ادب میں پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے اسکالر ابواللیث صدیقی کا تذکرہ

1875ء میں سرسیّد نے ”محمڈن اینگلو اورینٹل کالج“ کی داغ بیل ڈالی تھی جس نے 1920ء میں جامعہ کا درجہ پایا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہلائی۔ جدید عصری علوم کی ترویج کے ساتھ جامعہ میں‌ اسلامی علوم و فنون کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی اسی جامعہ سے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے اسکالر تھے۔

وہ قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے کراچی آگئے تھے۔ انھوں نے یہاں علمی و ادبی میدان میں نمایاں کام کیا اور ماہرِ لسانیات، محقّق اور نقّاد کی حیثیت سے ممتاز ہوئے۔ ابواللیث صدیقی استاد بھی تھے۔ بعد میں وہ جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو کے سربراہ رہے اور کولمبیا یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے بھی کام کیا تھا۔

وہ آگرہ کے رہنے والے تھے جہاں 15 جون 1916ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وکٹوریہ ہائی اسکول، آگرہ مشن اسکول اور اسلامیہ ہائی اسکول بدایوں سے مکمل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1942ء میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کے زیرِ نگرانی پی ایچ ڈی مکمل کیا۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی متعدد کتب کے مصنّف تھے جب کہ زبان و بیان، اصنافِ ادب اور تنقید پر مبنی ان کے کئی مضامین مؤقر روزناموں اور معروف جرائد میں شایع ہوتے رہے۔ ان کی ایک خود نوشت بھی ادبی حلقوں میں‌ مقبول ہوئی جس کے مقدمے میں ڈاکٹر معین الدّین عقیل لکھتے ہیں، “ڈاکٹر ابواللیث صدیقی زمانۂ طالب علمی ہی سے مضامین و مقالات لکھنے لگے تھے جو جامعہ دہلی، علی گڑھ میگزین علی گڑھ، ہمایوں لاہور، معارف اعظم گڑھ اور نگار لکھنؤ میں شائع ہوتے رہے۔ تنقید اور تحقیق دونوں ہی میں ڈاکٹر صاحب کی دل چسپی یکساں تھی۔ بعد میں لسانیات اور خاص طور پر اردو لسانیات ان کا محبوب موضوع بن گیا۔ ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیق مقالے لکھنؤ کا دبستانِ شاعری نے، جو شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا پہلا تحقیقی کام تھا، انھیں اسی زمانے میں شہرت سے ہم کنار کر دیا تھا۔ یہ مقالہ بھارت اور پاکستان میں کئی بار شائع ہوا۔“

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی چند اہم تصانیف میں مصحفی: اس کا عہد اور شاعری، جرأت: اس کا عہد اور شاعری، نظیر اکبر آبادی: اس کا عہد اور شاعری، تاریخِ زبان و ادبِ اردو، بیسویں صدی کا اردو ادب اور تاریخِ اصولِ تنقید شامل ہیں جب کہ رفت و بود ان کی خود نوشت ہے۔ ان کے مضامین کے تین مجموعے غزل اور متغزلین، روایت اور تجربے اور ادب اور لسانیات کے عنوانات سے شایع ہوئے۔

انھیں‌ زمانۂ طالبِ علمی میں علی گڑھ کے آفتاب ہوسٹل میں جن نابغۂ روزگار شخصیات اور علم و ادب کی دنیا کی ممتاز ہستیوں کی صحبت میّسر آئی، ان میں اختر حسین رائے پوری، سبطِ حسن، حیات اللہ انصاری، فضل الرّحمن انصاری شامل تھے۔ اسی زمانے میں انھیں اپنی تعلیمی قابلیت کے سبب علی گڑھ کے اکابرین کی خصوصی توجہ اور ان کی شفقت و عنایت بھی نصیب ہوئی جن میں نواب سَر راس مسعود اور پروفیسر محمد حبیب کا ذکر ابواللیث صدیقی نے اپنی خود نوشت میں خاص طور پر کیا ہے۔

7 ستمبر 1994ء کو ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے کراچی میں انتقال کیا۔ ان کی تدفین جامعہ کراچی کے قبرستان میں کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں