The news is by your side.

Advertisement

کویت میں دنیا کا سب سے بڑا ٹائروں کا قبرستان کیوں ختم کیا گیا؟

پرانے ٹائرز دنیا بھر میں ایک بہت بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہیں کیونکہ ان سے بہت سے کیمیائی مادّے خارج ہوتے ہیں، کویت کے صحرا میں بھی چار کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب سے بڑا ٹائروں کا قبرستان کہا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اتنا بڑا تھا کہ خلا سے بھی صحرا میں ایک سیاہ دھبے کی صورت میں نظر آتا تھا لیکن اب اسے سعودی سرحد کے قریب ایک نئے مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کو ری سائیکل کیا جائے گا۔

صُلیبیہ ٹائر قبرستان رہائشی علاقوں سے صرف سات کلومیٹرز کی دوری پر واقع تھا اور اس کی موجودگی ان مکینوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھی، کیونکہ ٹائروں کو تلف کرنے کے لیے جلایا بھی جاتا تھا، جن سے اٹھنے والا کالا دھواں مقامی افراد کے لیے زہر قاتل تھا۔

لیکن رواں ماہ کویت نے ان کروڑوں ٹائروں کو سعودی سرحد کے قریب سالمی نامی علاقے میں منتقل کردیا ہے اور اب اس جگہ پر پچیس ہزار نئے مقامات تعمیر کی جائے گی۔ اب نئے مقام پر ایک ری سائیکلنگ کمپنی ان پرانے ٹائروں کو استعمال کر کے رنگین فرشی ٹائلز بنا رہی ہے۔

اس ادارے کا کہنا ہے کہ یہ کارخانہ پرانے ٹائروں کو کارآمد مصنوعات میں بدلنے کے لیے کام کر رہا ہے، جنہیں خلیجی ممالک اور ایشیا کو بھی برآمد کیا جائے گا۔ اس پلانٹ نے جنوری دو ہزار اکیس میں کام کا آغاز کیا تھا اور سالانہ تیس لاکھ ٹائروں کو ری سائیکل کر سکتا ہے۔

رواں ماہ ٹائروں کی یہاں منتقلی کے لیے روزانہ پانچ سو ٹرکوں کو استعمال کیا گیا اور اب مزید ایک کارخانہ کھولنے کا منصوبہ ہے، جس میں پائرولائسس نامی عمل سے ٹائروں کو جلایا جائے گا، جس سے ایک قسم کا تیل پیدا ہوتا ہے جسے صنعتی بھٹیوں مثلاً سیمنٹ سازی کے کارخانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے بچ جانے والی راکھ، جسے ‘کاربن بلیک’ کہتے ہیں، بھی مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے۔

کویت تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا رکن ہے اور اس کی آبادی تقریباً 45 لاکھ ہے، لیکن ملک میں گاڑیوں کی تعداد دو ہزار انیس کے اعداد و شمار کے مطابق ہی چوبیس لاکھ تھی، اس لیے یہاں ٹائروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں