The news is by your side.

Advertisement

پیمرا قانون میں فیک نیوز کیخلاف شق شامل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) قانون میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے شق شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب سے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے قانون سازی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ پیمرا قانون میں مشاورت سے قانون سازی کی جائے گی، قانون میں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے شق شامل کی جائے گی۔

شرکا نے کہا کہ فیک نیوز سے قومی مفادات اور عوامی اتحاد کو نقصان ہوتا ہے۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ آزادی اظہار کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے،  وزیر اعظم شہباز شریف اظہار آزادی کے دستوری اور مہذب حق کا فروغ چاہتے ہیں، صحافت کی موت سیاست اور جمہوریت کی موت ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے کچھ روز قبل پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولٹری اتھارٹی کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی اے کا جو کالا قانون میڈیا کی آواز دبانے کے لیے لایا جا رہا تھا، ایسا کوئی کالا قانون نہیں لایا جائے گا، نہ اس پر کوئی کام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی، ہم نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی، پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولٹری اتھارٹی کو ختم کیا جا رہا ہے، کسی قسم کی کوئی ریگولٹری اتھارٹی قائم نہیں کی جائے گی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پیکا آرڈیننس پر نظر ثانی کریں گے اور اس خلا کو پر کریں گے، جرنلسٹ پروٹیکشن بل کو جلد لاگو کرنے کی کوشش کرائیں گے، اور عوام کی بہتری کے لیے تنقید کریں گے تو دل سے قبول کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا 4 سال ایک سیاہ دور سے گزرا، بہت سے لوگ نوکری سے نکالے گئے، کئی صحافیوں کے پروگرامز بند کر دیے گئے، اور 4 سال میڈیا کے لوگوں نے سنسر شپ میں جدوجہد کی، ہم سمجھتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے ہوگا تو معاشرہ بہتر انداز سے چلے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں