The news is by your side.

Advertisement

دھمکی دینے والے ملک کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کو دھمکی آمیز خط بھیجنے والے ملک کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اجلاس میں غیر ملکی مراسلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیف سمیت وفاقی وزرا نے شرکت کی۔

جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے شرکا کو بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ غیر ملکی سینئر آفیشنل نے ملاقات میں پاکستانی سفیر کو پیغام دیا، پاکستانی سفیر نے پیغام وزارت خارجہ کو ارسال کیا، غیر ملکی مراسلہ پاکستان میں کھلی مداخلت ہے، غیر ملکی اعلامیہ کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔

اجلاس میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اس ملک کے سفیر اور اس ملک کو بھرپور جوابی پیغام بھیجے گا، کمیٹی نے وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی کے فیصلےکی توثیق کی کہ معاملے کو پارلیمنٹ کی سکیورٹی کمیٹی کے ان کیمرا سیشن میں لانا چاہیے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے ”امر بالمعروف“ سے خطاب کے دوران ایک خط لہرایا تھا۔

وزیر اعظم نے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان میں بیرونی مداخلت کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی ہیں، ہمیں بھی ایک ملک نے دھمکی آمیز خط بھیجا ہے۔

گزشتہ روز وزیر اعظم نے 14 صحافیوں سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی تھی اور انہیں خط کے مندرجات بتائے تھے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ عمران خان وزیر اعظم رہے تو پاکستان آئندہ دن مشکل ہوں گے۔

تاہم وزیر اعظم نے صحافیوں کو یہ بتانے سے گریز کیا تھا کہ خط کسی ملک سے بھیجا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں