The news is by your side.

Advertisement

علاج کے پیسے ختم ہونے پر مردہ قرار دیا جانے والا نوجوان تدفین سے قبل زندہ ہوگیا

احمدآباد: بھارتی ریاست اتردپردیش کے علاقے لکھنؤ میں حیران کُن واقعہ اُس وقت پیش آیا کہ تدفین سے چند گھنٹوں قبل مردہ زندہ ہوگیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ محمد فرقان کو حادثے کے بعد دس روز قبل نجی اسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اُسے وینٹی لیٹر پر رکھنے کی تجویز دی کیونکہ نوجوان کوما میں تھا۔

رپورٹ کے مطابق فرقان کے اہل خانہ نے 21 جون سے گزشتہ روز تک اسپتال انتظامیہ کو 7 لاکھ روپے علاج کی مد میں ادا کیے اور جب ڈاکٹرز کو بتایا کہ اُن کے پاس پیسے ختم ہوگئے تو انہوں نے مریض کے انتقال کی خبر سنادی۔

بھائی محمد عرفان کے مطابق ڈاکٹرز نے جب موت کی تصدیق کی تو ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی البتہ ہم نے فرقان کو بذریعہ ایمبولینس گھر منتقل کیا اور پھر کفن دفن کے انتظامات میں مصروف ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ جب جنازہ اٹھانے کا وقت ہورہا تھا تو  اُس سے چند لمحے قبل ایک رشتے دار نے فرقان کے ہونٹوں میں جنبش دیکھی جس پر انہوں نے ہمیں مطلع کیا۔

مزید پڑھیں: مصر میں مردہ قرار دے کر دفن کیا گیا شخص گھر آپہنچا

عرفان کا کہنا تھا کہ جب ہونٹ زیادہ ہلنا شروع ہوئے اور بھائی کا سانس بھال ہوا تو ہم اُسے دوبارہ اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ وہ ابھی زندہ ہے، البتہ اب بھی اُس کی طبیعت تشویشناک ہے۔

واقعہ پیش آنے کے بعد لکھنؤ کے عوام نے احتجاج کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ طب کے شعبے میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔

لکھنؤ کے چیف میڈیکل آفیسر نریندرا اگروال نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسپتال انتظامیہ اور ملوث ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

نریندرا اگروال کا کہنا تھا کہ ’’مریض کی حالت تشویشناک ضرور تھی مگر وہ مرا نہیں تھا، اُن کی نبص اور دماغ مکمل کام کررہاتھا البتہ کوما کی وجہ سے جسم حرکت کرنے سے قاصر تھا اور ڈاکٹرز نے اُسے مردہ قرار دیا’’۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں