کراچی (18 فروری 2026): پاکستان میں حکومتی دعوؤں کے برعکس سرمایہ کاری کی شرح مسسلسل کم ہو رہی ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح حکومتی دعوؤں کے باوجود تنزلی کا شکار ہے، اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے پہلے 5 ماہ کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فی صد کمی آئی۔
2026 میں بھی سرمایہ کاری کی شرح جی ڈی پی کی 13.1 فی صد رہی ہے، جو 50 سال کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے تمام معاشی اہداف اور سیاسی استحکام حاصل کیے بغیر سرمایہ کاری کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
کراچی کی صنعتیں پانی کے بحران سے مفلوج، 1800 فیکٹریاں بند
ماہر معاشیات محمد صابر کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی، ٹیکس پالیسیوں میں عدم تسلسل، مختلف ٹیکسز میں بے پناہ اضافہ اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کی طرف عدم دل چسپی نے ملک میں سرمایہ کاری کو کم کر دیا ہے۔ پاکستان میں پچھلے 3 سالوں میں مختلف بین الاقوامی کمپنیاں ملک سے اپنا کاروبار بند کر چکی ہیں۔
ماہرین کے خیال میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں تاریخِی کمی مستقبل میں روزگار کے مواقع کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل
ہیں۔


