The news is by your side.

متنازع رن آؤٹ، انگلش کھلاڑی بھارتی روئیے پر روپڑیں

لارڈز: انگلینڈ،انڈیا ویمنز ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تیسرا ایک روزہ میچ متنازعہ بن گیا، کرکٹرز سمیت سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انڈین کھلاڑی کے طرز عمل پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لارڈز میں کھیلا گیا میچ انڈیا نے اپنے نام تو کیا ، مگر انڈین بولر دیپتی شرما کا ’منکڈ رن آؤٹ‘ کے تحت انگلش کھلاڑی کو آؤٹ کرنا ایک تازہ بحث کا سبب بن گیا ہے۔

انگلینڈ کو تیسرے میچ میں میں جیتنے کے لیے 39 گیندوں پر 17 رنز درکار تھے اور اس کے پاس ایک ہی وکٹ باقی تھی، تاہم اس وقت تنازع شروع ہوا جب انڈین کھلاڑٰ دیپتی شرما نے انگلش کھلاڑی چارلی ڈین کو نان سٹرائیکر اینڈ پر رن آؤٹ کیا جو اپنی کریز سے کافی دور تھیں، اسی جیت کے ساتھ ہی انڈیا نے 20 سالوں میں پہلی بار انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ میں وائٹ واش کیا۔

تیسرے امپائر کی طرف سے فیصلہ برقرار رکھنے کے فوراً بعد ڈین بلا زمین پر پھینک کر رو پڑیں جبکہ گراؤنڈ میں شائقین نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

بھارتی کھلاڑی کے اس حرکت پر سابق انگلش کرکٹرز بھڑک اٹھے اور انہوں نے اسے ‘ان فیئرپلے’ رویہ قرار دیا، انگلینڈ کی سابق اسپنر ایلکس ہارٹلی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتی کہ آپ کو انٹرنیشنل کھیل کا اختتام اس طرح کرنا چاہیئے۔

انگلش کرکٹر اسٹورٹ بروڈ نے لکھا کہ ’یہ کھیل ختم کرنے کا بدترین طریقہ ہے۔‘

انگلینڈ کی بولر کیٹ کروس کا کہنا تھا کہ وہ کبھی اس طریقے سے وکٹ نہیں لیں گی لیکن ’یہ ایسا آؤٹ ہے جس پر رائے ہمیشہ منقسم رہے گی، اس کے بارے میں یہی کچھ کہا جا سکتا ہے کہ بعض لوگ اسے پسند کریں گے، بعض نہیں کریں گے۔‘

’منکڈ‘ کی اصطلاح انڈین بولر وینو منکڈ سے منسوب ہے، وہ پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے 1948 میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں آؤٹ کرنے کا یہ متنازع طریقہ استعمال کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے منکڈ کے تحت آؤٹ کو درست قرار دیا تھا اور منکڈ کو اپنے ضوابط کی کتاب میں ’اَن فیئر پلے‘ کے سیکشن سے نکال کر رن آؤٹس کے سیکشن میں شامل کیا تھا،

تاہم یہ تبدیلی اگلے ماہ ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ سے پہلے نافذ العمل نہیں ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں