اسلام آباد (12 جون 2026): وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 27-2026 کیلیے دفاع بجٹ کی مد میں تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دے دی۔ دفاعی بجٹ کا تخمینہ جاری مالی سال کے نظر ثانی شدہ 2595 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی اخراجات کا تخمینہ تین ہزار ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 450 ارب روپے زائد ہے، علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مالی سال کیلیے دفاعی بجٹ 18 فیصد اضافے سے 3000 ارب روپے رکھا جائے گا جو کہ مجموعی وفاقی بجٹ کا تقریبا 15 فیصد ہے۔
نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں پاک فوج کیلیے 1284 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جبکہ پاک فضائیہ کیلیے 573 ارب روپے اور پاک بحریہ کیلیے 293 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ رواں سال دفاعی بجٹ میں پاک فوج کیلیے 1184 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پاک فضائیہ کیلیے 520 ارب روپے اور پاک بحریہ کیلیے 273 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملکی دفاعی بجٹ 2550 ارب روپے رکھا گیا تھا جس پر نظرثانی کر کے اسے 2595 ارب روپے کیا گیا۔ نئے مالی سال میں ملٹری پنشن کی مد میں 822 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جبکہ جاری مالی سال میں ملٹری پنشن کی مد میں 742 ارب روپے رکھے گئے تھے۔
جاری مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 7 ارب 95 کروڑ رکھے گئے تھے جو نظر ثانی کے بعد 11 ارب 74 کروڑ ہو چکے ہیں۔ نئے مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 10 ارب 90 کروڑ رکھے گئے ہیں۔
نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 967 ارب کے اخراجات تجویز کئے گئے ہیں جبکہ جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 846 ارب کے اخراجات رکھے گئے تھے جو نظرثانی کے بعد 851 ارب روپے ہیں۔
نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 743 ارب تجویز کئے گئے ہیں، جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 704 ارب رکھے گئے تھے جو نظرثانی کے بعد 721 ارب روپے ہیں، وفاقی حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرتے ہوئے دفاعی اور سکیورٹی ضروریات کو ترجیح دی ہے۔
دستاویز کے مطابق دفاعی بجٹ میں عام طور پر شامل اخراجات پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے آپریشنل اخراجات افسران اور جوانوں کی تنخواہیں و الاؤنسز بھی شامل ہیں۔


