ایبٹ آباد میں محکمہ جنگلات کی سرپرستی میں درختوں کی بے دریغ کٹائی -
The news is by your side.

Advertisement

ایبٹ آباد میں محکمہ جنگلات کی سرپرستی میں درختوں کی بے دریغ کٹائی

ایبٹ آباد: خیبر پختونخواہ حکومت کا صوبے کو سرسبز بنانے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ ٹمبر مافیا کے بعد محکمہ جنگلات کے عملہ کی سرپرستی میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں ٹمبر مافیا نے ہزاروں قیمتی درخت کاٹ دیے۔

ایبٹ آباد میں گلڈانیہ کے جنگلات میں دن دہاڑے قیمتی درختوں کی اسمگلنگ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات کا عملہ بھی درختوں کی کٹائی میں ملوث ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے محکمہ جنگلات کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو جنگلات کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

دوسری جانب صوبے میں شجر کاری کی مہم بھی جاری ہے اور خیبر پختونخواہ پاکستان کا واحد صوبہ بن گیا ہے جہاں وسیع پیمانے پر شجر کاری کے ذریعے 35 لاکھ ایکڑ جنگلات کو بحال کیا گیا ہے۔

چند روز قبل عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے پر کامیاب عملدر آمد کے بعد خیبر پختونخواہ کا شمار دنیا کے ان علاقوں میں ہونے لگا ہے جس نے عالمی معاہدے ’بون چیلنج‘ کو پورا کرتے ہوئے 35 لاکھ ایکڑ زمین پر جنگلات قائم کیے۔

بعد ازاں ورلڈ اکنامک فورم نے بھی اس منصوبے کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر 12 کروڑ ڈالرز سے زائد رقم خرچ کی گئی جس کے بعد یہ ملک کی سب سے بڑی ماحول دوست سرمایہ کاری بن گئی ہے۔

یاد رہے کہ بلین ٹری سونامی کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں داخل ہوگیا ہے اور اب تک صوبے بھر میں 94 کروڑ درخت کامیابی سے لگائے جاچکے ہیں۔

منصوبے کے تحت صوبے میں مجموعی طور پر ایک ارب درخت لگائے جانے تھے اور منصوبہ اب اپنے اختتامی مراحل میں ہے


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں