The news is by your side.

Advertisement

حمزہ اور شہباز شریف کی جانب سے تاخیری حربوں کا سلسلہ جاری

لاہور: حمزہ شہباز اور شہباز شریف کی جانب سے تاخیری حربوں کا سلسلہ جاری ہے، خصوصی عدالت نے تاخیری حربوں کو دیکھتے ہوئے منی لانڈرنگ کیس میں آج کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

خصوصی عدالت نے تحریری حکم میں کیس کی روزانہ سماعت اور عدالتی اختیار پر وکلا کو دلائل کے لیے طلب کر لیا ہے، عدالت نے حکم میں کہا کہ تینوں وکلا 10 مارچ کو بحث کے لیے حاضر ہوں۔

تحریری حکم میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے التوا کی درخواست کی، شہباز شریف نے وکیل امجد پرویز کی بیماری کی وجہ سے التوا کی درخواست دی، گزشتہ سماعت پر بھی شریف گروپ کے سی ایف او محمد عثمان نے بھی تیاری نہ ہونے پر التوا لیا تھا۔

قبل ازیں، ایف آئی اے نے اسپیشل جج سینٹرل عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی روزانہ سماعت کی درخواست داٸر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ 18 فروری کو عدالت نے ملزمان کو فرد جرم عاٸد کرنے کے لیے طلب کیا تھا، ملزمان نے 18 فروری کو عدالتی داٸرہ اختیار اور چالان کی نقول فراہمی کی درخواستیں داٸر کر دیں، مرکزی ملزم شہباز شریف کے وکیل بھی اس سماعت پر پیش نہ ہوٸے۔

ایف آئی اے کے مطابق مرکزی ملزم 21 جون 2021 سے عبوری ضمانت پر ہیں، ملزمان نے سیاسی مصروفیات اور طبی بنیادوں پر 9 بار التوا لیا، ملزمان کے وکلا نے آج تک عبوری ضمانتوں پر بھی بحث مکمل نہیں کی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ملزمان دوران تفتیش اہم سوالات کے جوابات دینے سے گریزاں رہے ہیں، ملزمان کا تفتیش کے دوران رویہ ٹال مٹول والا ہے، شرعی اور قانونی تقاضا ہے کہ جلد انصاف کیا جاٸے، اور عدالت شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے اس رویے کا نوٹس لے۔

درخواست میں استدعا کی گٸی کہ بے مقصد اور تاخیری حربے کے طور پر داٸر درخواستیں مسترد کی جاٸیں اور کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا جاٸے۔

پراسیکیوشن ٹیم کے ممبر محمد عثمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوٸے کہا ہم بحث کرنے کے لیے تیار ہیں، ملزمان کے وکلا تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں جس سے ٹراٸل متاثر ہو رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں