The news is by your side.

Advertisement

شہباز شریف کی سربراہی میں وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اے پی سی پر مشاورت

اے پی سی جلد ہوگی: شہباز شریف۔ آج کی مشاورت سے مطمئن ہوں: مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی سربراہی میں ایک وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے، جس میں پارلیمان سے باہر اپوزیشن کی اے پی سی پر مشاورت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بلاول بھٹو کے بعد اپوزیشن کے ایک اور وفد نے شہباز شریف کی سربراہی میں ملاقات کی ہے۔

وفد میں راجہ ظفرالحق، شاہد خاقان عباسی، رانا ثنا اللہ، رانا تنویر، مرتضیٰ جاوید عباسی، احسن اقبال، مریم اورنگ زیب، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا واسع، مولانا اسعد محمود اور دیگر شریک تھے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں پارلیمنٹ سے باہر اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے سلسلے میں مشاورت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  کوشش ہوگی، عوام دشمن بجٹ منظور نہ ہو: بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کے وفد کو پی پی چیئرمین بلاول بھٹو سے ہونے والی ملاقات سے بھی آگاہ کیا، شہباز شریف نے مولانا کو حکومتی بجٹ اور قومی اسمبلی کی کارروائی پر بریف کیا۔

شہباز شریف

دریں اثنا، ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اے پی سی جلد ہوگی، مزید مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، اس ضمن میں اکیلے فیصلہ نہیں کرنا، پوری ٹیم ہے اور بھی جماعتیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے، پاکستان دشمن بجٹ کی مخالفت کرتے ہیں، اپوزیشن مل کر عوام، غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی آواز بنے گی، حکومت کو عوام دوست بجٹ لانے پر مجبور کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ شہباز شریف اور ان کی ٹیم کے شکر گزار ہیں کہ وہ ملاقات کے لیے آئے، آج کی مشاورت سے مطمئن ہوں، یہ طے ہے کہ اے پی سی بہت جلد ہوگی، جعلی حکومت، نصب کردہ حکمران کسی طور قوم کو قبول نہیں۔

انھوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے بعد ایک ہفتے میں مؤقف پیش کیا تھا، دیر آید درست آید لیکن ہمارا مؤقف ابھی بھی وہی ہے، گرفتار ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جا رہے، خدشہ ہے مزید گرفتاریاں ہوں گی تاکہ بجٹ مخالف ووٹ کم پڑیں۔

فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی تجاویز اور تنقید سنے، اس وقت حکومت ملک کی معاشی قاتل بنی ہوئی ہے، پاکستان ایسے تجربات کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، اے پی سی کا فورم جو فیصلہ کرے گا اس کے مطابق چلیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں