The news is by your side.

Advertisement

دہلی فسادات : بے گناہ مسلم شہری کو قتل کیوں کیا گیا؟ حقائق سامنے آگئے

متعصب شرپسندوں نے بہیمانہ تشدد کرکے مقتول کے بھائی کے بھی ہاتھ پیر توڑ دیئے تھے

نئی دہلی : بھارت کے شہر دہلی میں گزشتہ سال ہونے والے خونریز فسادات میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ آج بھی غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ان کے پیاروں کو صرف مسلمان ہونے کی سزا دی گئی۔

اس حوالے سے شیو وہار علاقے میں رہنے والی نازش بیگم دہلی فسادات میں اپنے شوہر سے محروم ہو گئیں۔ نازش بیگم کے شوہر جمال الدین منصوری کو فسادیوں نے 25 فروری کی شام قتل کردیا تھا جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ اپنے آبائی علاقے سے گھر واپس آرہے تھے۔

مقتول کی بیوہ نازش بیگم نے میڈیا کو بتایا کہ میرے شوہر کے بھائی نظام الدین کو فسادیوں نے لاٹھی اور ڈنڈوں سے اس قدر پیٹا کہ ان کا ہاتھ اور پیر ٹوٹ گیا۔ خوش قسمتی سے وہ بچ گئے لیکن ان کے بھائی جمال الدین نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

جمال الدین کی بیوی نازش نے بتایا کہ راشن کارڈ پر مسلم نام دیکھنے کے بعد فسادیوں نے ان کے شوہر کو بے رحمی سے تشدد کرکے قتل کیا تھا، ان کے چھوٹے بھائی کو بھی اسی بات پر اس قدر پیٹا کہ ان ہاتھ اور پیر ٹو ٹ گئے تھے۔

مقتول جمال الدین کے بھائی نظام الدین نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ فسادات کو ایک سال گزر گیا ہے لیکن میں اس سیاہ دن کو کبھی بھول نہیں پاؤں گا۔

ہمارے کارڈ پر مسلم نام دیکھ کر شرپسندوں نے ڈنڈوں اور لاتوں سے اس قدر مارا پیٹا کہ میں بے ہوش ہوگیا، جب ہوش آیا تو میں اسپتال میں تھا پھر معلوم ہوا کہ بھائی انتقال کرگئے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد میں اس قابل نہیں کہ کچھ کما سکوں، معاوضہ کے لئے دہلی حکومت کو درخواست دی لیکن اب تک مکمل معاوضہ نہیں ملا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں