ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

ایک اور ڈیلیوری رائیڈر کی جان ضائع، جانی و مالی عدم تحفظ کے شکار شعبے میں کام کرنے والے تشویش میں مبتلا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (11 مئی 2026): کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 7، خیابان اتحاد پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ڈیلیوری رائیڈر شاہد جاں بحق ہو گیا، پچیس سالہ شاہد سڑک پر تڑپتا رہا، جب کہ ذمے دار ڈرائیور گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے روزی روٹی کمانے کے لیے کراچی آنے والے جوان سال فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کے ٹریفک حادثے میں موت سے اس تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے کہ ٹریفک حادثات میں ڈیلیوری رائیڈرز کے اموات کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، اور اس کے سد باب کے لیے کسی بھی سطح پر کوئی سوچ پائی نہیں جا رہی۔


اس کیس میں مبینہ طور پر تیز رفتاری سے آتی ایک گاڑی نے موٹر سائیکل پر سوار شاہد کو ٹکر ماری، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا، جب شاہد کو جناح اسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔


پولیس نے جناح اسپتال میں ضابطے کی کارروائی کے بعد شاہد کی لاش اس کے ورثا کے حوالے کر دی ہے۔ شاہد کی میت تدفین کے لیے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان روانہ کر دی گئی ہے، متوفی شاہد اپنی 4 بہنوں اور ایک بھائی کی کفالت کرتا تھا۔

جاں بحق نوجوان کے ساتھ کام کرنے والے فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز نے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کو فوری گرفتار کیا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

حادثے میں ملوث گاڑی کون چلا رہا تھا؟


پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے میں ملوث گاڑی پکڑ لی گئی ہے، مذکورہ گاڑی طارق روڈ پر ہل پارک کے قریب واقع ایک ورکشاپ پر کھڑی تھی، جس کے پرانے مالک عامر علی نے یہ کار نثار احمد کو فروخت کر دی تھی اور نثار نے مرمت کے لیے ورکشاپ پر کھڑی کی ہوئی تھی، اسی ورکشاپ میں کام کرنے والے حمزہ نے رات تقریباً ڈھائی بجے یہ گاڑی نکالی اور صبح 8 بجے گاڑی واپس ورکشاپ میں کھڑی کر کے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ورکشاپ کا سیکیورٹی گارڈ بھی حمزہ کا بھائی ہے، اور جاتے وقت حمزہ نے چابیاں اسے دے دی تھیں۔


پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ تاہم اس کیس سے یہ تشویش مزید بڑھ گئی ہے کہ کراچی شہر میں تواتر کے ساتھ ڈیلیوری رائیڈرز ٹریفک حادثات کا نشانہ بن رہے ہیں اور ان کے جانی و مالی تحفظ کا کوئی بندوبست موجود نہیں ہے۔ ڈیلیوری رائیڈرز کی اموات سے ان کے خاندان جذباتی نقصان کے ساتھ ساتھ معاشی مشکلات کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔


واضح رہے کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی لہر کے دوران ڈیلیوری رائیڈرز بھی آئے روز نشانہ بن رہے ہیں۔

+ posts

افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں

اہم ترین

افضل خان
افضل خان
افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں

مزید خبریں