ڈیموکریٹ قانون ساز سینیٹر پیٹر ویلچ سمیت پانچ قانون سازوں نے غزہ میں 5 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب، اس کے خاندان اور امدادی اہلکاروں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے بل پیش کر دیا۔
امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان نے ایک اہم بل پیش کیا ہے جس میں محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی بچی ہند رجب کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے کی گئی اپنی کوششوں کی وضاحت کرے اور یہ بتائے کہ کیا اس واقعے میں کوئی امریکی شہری ملوث تھا۔
ہالی ووڈ رپورٹر کی جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس بل کا عنوان "جسٹس فار ہند رجب ایکٹ” رکھا گیا ہے، اس بل کو ووٹنگ کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی کمیٹیوں اور بحث کے مراحل سے گزرنا ہوگا، تاہم ریپبلکن اکثریتی مقننہ میں اسے سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہند رجب غزہ سے تعلق رکھنے والی چھ سالہ فلسطینی بچی تھی جس کی 29 جنوری 2024 کو اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں المناک موت بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی علامت بن چکی ہے، جہاں اب تک 72,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
سینیٹ میں پیٹر ویلچ اور ایوانِ نمائندگان میں پرمیلا جے پال اور سارہ جیکبز کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ قانون بننے کی صورت میں وزیر خارجہ اور وزیر جنگ 45 دنوں کے اندر ایک رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس رپورٹ میں واضح کیا جائے گا کہ آیا یہ قتل امریکی فارن اسسٹنس ایکٹ اور ‘لیہی لاء’ کی خلاف ورزی تو نہیں؟ لیہی لاء امریکا کو ایسے غیر ملکی فوجی یونٹس کو اسلحہ یا امداد فراہم کرنے سے روکتا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہوں۔
قانون ساز یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ہند رجب کے قتل میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کی شناخت کیا ہے اور کیا ان میں سے کوئی امریکی شہری بھی ہے۔ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت اس واقعے سے متعلق اپنی تمام معلومات فراہم کرے، بشمول اس کے کہ کیا محکمہ انصاف نے کبھی اس انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تحقیقات کی ہیں۔
بل میں ذکر کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک امریکا نے اسرائیل کو 21.7 ارب ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کی ہے، جس نے غزہ جنگ کے اخراجات کا بڑا حصہ پورا کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں موجود تقریباً 10,000 امریکی شہریوں کو بھی اس جنگ کے لیے متحرک کیا گیا تھا۔
بائیڈن انتظامیہ اب تک ہند رجب اور غزہ میں دیگر جنگی جرائم کی تحقیقات کے سوال پر صحافیوں کو اسرائیلی حکومت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتی رہی ہے، جسے ناقدین معاملہ ٹالنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
اس حوالے سے امریکا میں قائم وکالتی تنظیم ‘اے نیو پالیسی’ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "اسرائیل پر خود اپنی تحقیقات کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔” تنظیم کا کہنا ہے کہ اسی لیے ہمیں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) جیسے اداروں اور ‘جسٹس فار ہند رجب ایکٹ’ جیسے قوانین کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


