ڈنمارک میں نقاب پہننے پر پابندی کے بعد پہلی خاتون کو سزا
The news is by your side.

Advertisement

ڈنمارک میں نقاب پہننے پر پابندی کے بعد پہلی خاتون کو سزا

کوپن ہیگن : ڈنمارک میں نقاب پرپابندی کا قانون نافذ ہونے کے بعد نقاب پہننے پرخاتون کوسزا سنا دی گئی، خواتین کا کہنا ہے  نقاب نہیں اُتاریں گی اور اپنے حق کے لیے لڑیں گی ۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ڈنمارک میں اٹھائیس سالہ خاتون کو شاپنگ مال میں نقاب پہن کر آنے پر ایک ہزار کرونر کی رقم کا جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی گئی جبکہ شاپنگ مال میں خاتون کا نقاب ہٹانے کی کوشش بھی کی گئی۔

مسلمان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے لڑیں گی اورنقاب نہیں اُتاریں گی ۔

خیال رہے  ڈنمارک میں عوامی مقامات پر نقاب پہن کر آنے پر پابندی کا قانون رواں ہفتے نافذ کیا گیا ہے۔

کوپن ہیگن میں ہزاروں خواتین  نے نقاب پرپابندی کے خلاف مظاہرہ کیا اور  نقاب پرپابندی کوانسانی حقوق کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے قانون کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔


مزید پڑھیں :  ڈنمارک میں نقاب پر پابندی کے خلاف خواتین کا مظاہرہ


خواتین مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسلام کے خلاف نفرت اور بنیاد پرستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جبکہ پردہ عین عورت کا حسن اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، مظاہرین خواتین نے ریلی میں نقاب پہن رکھے تھے۔

واضح رہے رواں سال مئی میں ڈنمارک پارلیمنٹ نے عوامی مقامات پر مسلمان خواتین کے پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون منظور کیا تھا، جس کے بعد قانون کا اطلاق یکم اگست سے ہوا۔

قانون کے مطابق خواتین پورے چہرے کو ڈھانپ نہیں سکیں گی تاہم سر پر اسکارف پہننے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ بعض مذاہب کی روایت ہے۔

اس سے قبل آسٹریا، فرانس اور بیلجیم میں اسی طرح کا قانون منظور ہوچکا ہے اور اب ڈنمارک بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے، جہاں خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں