زندگی سے مایوسی، موت کی علامت قرار -
The news is by your side.

Advertisement

زندگی سے مایوسی، موت کی علامت قرار

یہ بات ایک مطالعاتی تحقیق میں سامنے آئی

لندن: برطانوی ماہرین نے دعویٰ کیاہے کہ جو شخص مایوسی کا شکار ہوجائے تو پھر وہ تین دن کے اندر موت کے منہ میں جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لندن کی پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کے ماہرین نے مایوسی کے حوالے سے مطالعاتی مشاہدہ کیا جس کے نتائج طبی جریدے ’جنرل میڈیکل ہائی پو تھیسس‘ میں شائع ہوئے۔

ماہرین کے مطابق تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کسی شخص میں سے زندگی کی امید ختم ہوجانا ایک ایسی حقیقی بیماری ہے جس کے بعد وہ انتقال کرجاتا ہے۔

تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص اگر مایوسی کے گھیرے یا کسی المناک واقعے سے تین روز میں باہر نہیں نکل سکتا تو وہ زندگی گنوا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: نیند کی کمی آپ کو کن بیماریوں کا شکار بنا سکتی ہے؟

محققین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اس بات کو اپنے دماغ میں بیٹھا لے کہ وہ مذکورہ واقعے کے اثرات سے کسی صورت باہر نہیں نکل سکتا تو اُس کے دماغ کی سرگرمیاں یکسر تبدیل ہوجاتی ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کی وجہ سے ہی کوئی شخص اپنا خیال رکھتا ہے اور یہی چیز اُس میں آگے بڑھنے کا عزم جگاتی ہے البتہ زندگی سے ہار مان لینے والے افراد ایسے عارضے میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کا تعلق ٹراما سے جڑا ہوتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ کیفیت خودکشی یا ذہنی تناؤ (ڈپریشن) کی علامت نہیں، مایوسی پیدا ہونے کے بعد انسان پانچ مراحل سے گزرتا ہے جو کسی فرد کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔

بیماری کا ابتدائی مرحلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب مریض معاشرے سے الگ تھلگ اور تنہائی کو پسند کرنے لگتا ہے، آہستہ آہستہ اُس میں سے جینے کی خواہش بھی ختم ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈپریشن کا شکار افراد کو آپ کی مدد کی ضرورت

اگلے مرحلے میں متاثرہ شخص کے اندر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے جبکہ اُس کے بعد انسان کا دماغ اس قدر بے خبر ہوجاتا ہے کہ وہ کسی بھی گندگی حتی کہ فضلے پر بھی زندگی گزارنے لگتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مایوسی کا آخری مرحلے میں انسان کے اندر سے زندگی کی امید بالکل ختم ہوجاتی ہے جس کے بعد وہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں