"پرانی غذائیں” سے مراد عموماً روایتی، قدرتی اور کم پروسیس شدہ غذائیں ہیں جو صدیوں سے استعمال ہوتی آ رہی ہیں جیسے دالیں، اناج (جیسے جو، باجرا، مکئی)، سبزیاں، پھل، دودھ، گھی، شہد، گوشت (اگر تازہ ہو)۔ یہ جدید پروسیسڈ فوڈز (جیسے پیکڈ اسنیکس، سوڈا، فاسٹ فوڈ) کے برعکس ہیں۔
آئیے سائنسی اور غذائیت کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ آج کے دور میں کتنی مفید ہیں، ماہر غذائیت ڈاکٹر نوید بھٹو نے بتایا کہ پرانی غذائیں فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھری ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر دالیں (چنے، مونگ، مسور) میں پروٹین، آئرن، فولیٹ ہوتا ہے، اناج (باجرا، جو) میں میگنیشیم، فاسفورس اور فائبر ہوتا ہے جو ہاضمہ بہتر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فائبر کی زیادہ مقدار قبض، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتی ہے، جدید فوڈز میں فائبر کم ہوتا ہے، جبکہ پرانی غذائیں اس کی کمی پوری کرتی ہیں۔
پرانی غذائیں (جیسے کھلی دالیں، سبزیاں) کیڑے مار ادویات، بھاری دھاتوں (سیسہ، کیڈمیم) سے آلودہ ہو سکتی ہیں، قدرتی غذا کا استعمال ہمارے لیے بہت فائدہ دیتی ہیں اگر یہ نیچرل پروسس سے بنی ہوئی ہو۔
لوگ دوبارہ دیسی روایتی کھانوں کی طرف لوٹ رہے ہیں
ماہر غذائیت ڈاکٹر نوید بھٹو نے کہا کہ جانوروں سے حاصل کی گئی غذائیں ہمیں ہر طرح سے فائدہ دیتی ہیں لیکن ہماری لائف اسٹائل میں تبدیلی کے باعث ان کی مقدار پر انحصار کرتا ہے کہ آیا ہمیں کتنی مقدار میں کس چیز کی ضرورت ہے۔
ایک دلچسپ اور مثبت رجحان ہے کہ لوگ دوبارہ دیسی روایتی کھانوں کی طرف واپس آ رہے ہیں، فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ کھانوں سے ہونے والے نقصانات (موٹاپا، شوگر، ہائی بلڈ پریشر) کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے۔
لوگ اپنی ورثے سے جڑنا چاہتے ہیں، دیسی کھانا صرف کھانا نہیں، ایک ورثہ ہے جبکہ پر دیسی کھانوں کی ویڈیوز، گھریلو ترکیبوں کی واپسی، "clean eating” کا ٹرینڈ یہ سب لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔


