The news is by your side.

Advertisement

کعبے کا دروازہ ڈیزائن کرنے والے منیر الجندی انتقال کرگئے

بیتُ اللہ شریف کا دروازہ ڈیزائن کرنے والے انجینیئر منیر الجندی انتقال کر گئے۔ وہ جرمنی میں‌ مقیم تھے۔

انھوں نے 70ء کی دہائی میں سعودی عرب کے چوتھے فرماں روا شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں بیتُ اللہ کا دروازہ ڈیزائن کیا تھا۔ شاہ خالد نے اس زمانے میں بیتُ اللہ کے اندر ادائیگیِ نماز کے بعد وہاں خالص سونے سے دروازہ تیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس دروازے کو ڈیزائن کرنے کے لیے انجینیئر منیر الجندی کا انتخاب کیا گیا جو شام سے تعلق رکھتے تھے۔ الجندی شام کے شہر حمص میں پیدا ہوئے تھے۔

کعبے کے اس دروازے کے ڈیزائن کی تیاری کا کام مکہ مکرمہ میں ایک بہت بڑے سُنار شیخ محمود بن بدر کے کارخانے میں انجام پایا۔

بیت اللہ کے دروازے کی تیاری میں 280 کلو گرام خالص سونا استعمال کیا گیا۔

سعودی فرماں‌ روا کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کے دروازے کو کوئی مسلمان شخصیت ڈیزائن کرے اور اس کا نام دروازے پر لکھا جائے گا۔ یہ سعادت انجینئر منیر الجندی کے حصّے میں‌ آئی اور دروازہ تیار ہونے کے بعد ان کا نام بیت اللہ بھی اس پر لکھا گیا۔

سعودی محقق کے مطابق اس ’دروازے کو انجینئر منیر الجندی نے ڈیزائن کیا۔ دروازے پر نقش و نگار شیخ عبدالرحیم البخاری نے بنائے تھے۔‘

’دروازے کی بلندی 3 میٹر جب کہ چوڑائی دو میٹر ہے۔ یہ نصف میٹر کے قریب گہرا ہے۔ دروازہ دو کواڑوں پر مشتمل ہے۔‘

’دروازے کا فریم ’میکا مونگ‘ لکڑی سے بنا ہوا ہے جو تھائی لینڈ میں تیار ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں مہنگی ترین لکڑی ہے۔‘

ڈیزائن کے بعد اس دروازے کو ڈیڑھ سال کی مدت میں‌ تیار کرلیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں