The news is by your side.

Advertisement

جامعہ کراچی میں خاتون نے خودکش دھماکا کیسے کیا اورکون سا مہلک کیمیکل استعمال ہوا؟

کراچی: تفتیشی حکام کا کہنا ہے کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکے میں پہلی بارمہلک کیمیکل کا استعمال کیا گیا اور خودکش بمبار نے جیکٹس سے جڑی پن کو کھینچ کر دھماکا کیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی یونیورسٹی کنفیوشس ڈپارٹمنٹ کے باہر خودکش دھماکے میں استعمال ہونے والے بارودی مواد کے حوالے سے تفصیلات سامنے آئیں۔

اے آروائی نیوز نے ملنے والی ایجیکٹ پن کی خصوصی تصویرحاصل کرلی ، خودکش بمبار نے جیکٹس سے جڑی پن کو کھینچ کر دھماکا کیا۔

تصویر میں ایجیکٹ پن کیساتھ لال کالی تار اور لوہے کی پتلی راڈ دیکھی جاسکتی ہے ، بی ڈی ایس کو خودکش جیکٹ سے منسلک پن موقع پر ہی مل گئی۔

حکام کے مطابق خود کش حملے میں سی 4 کے ساتھ بھاری مقدارمیں فاسفورس استعمال کیا گیا ، کسی بھی خودکش دھماکے میں پہلی بارمہلک کیمیکل کا استعمال کیا گیا، فاسفورس کیمیکل کی مقدار بہت زیادہ تھی۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ دھماکے کے بعد کیمیکل سے گاڑی مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آگئی ، جائے وقوع سے ملنے والے شواہد کو فارنزک کیلئے بھیج دیا گیا ،رپورٹ آنے کے بعد مزید مواد کے استعمال سے متعلق تفصیل سامنے آئے گی۔

دھماکا اس قدر شدید رتھا کہ جسم کے عضادور تک اڑ کر گرے ، جسمانی اعضانہ ملنے کی وجہ سے بی ڈی کی سرچنگ جاری رہےگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں