The news is by your side.

Advertisement

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی مقدمے کا تفصیلی فیصلہ آج جاری ہوگا

اسلام آباد: سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کا تفصیلی فیصلہ آج جاری کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت اپنے عبوری حکم میں سابق آرمی چیف کو سنگین جرم کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت سنا چکی ہے، تین رکنی بنچ نے فیصلہ دو ایک کی بنیاد پر دیا تھا۔

خصوصی عدالت کا بینچ جسٹس وقار سیٹھ، جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل ہے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے فیصلے پر رد عمل میں کہا ہے کہ مجھے ان لوگوں نے ٹارگٹ کیا جو اونچے عہدوں پر فائز اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ذاتی عداوت کا نشانہ بنایا گیا، پاکستانی عدلیہ سے انصاف امید ہے، پرویز مشرف

خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد پرویز مشرف نے اے آر وائی نیوز کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو مشکوک سمجھتا ہوں، ایسے فیصلے کی مثال نہیں ملتی جہاں دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، کیس میں قانون کی بالا دستی کا خیال نہیں رکھا گیا۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ وہ جج جنھوں نے میرے زمانے میں فوائد اٹھائے وہ کیسے میرے خلاف فیصلے دے سکتے ہیں، اس کیس کو سننا ضروری نہیں تھا، اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کروں گا، پاکستانی عوام اور فورسز کا شکر گزار ہوں، جنھوں نے مجھے یاد رکھا، یہ میرے لیے تمغا ہے اسے قبر میں لے کر جاؤں گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں