اتوار, اگست 16, 2026
اشتہار

وفاقی اور صوبائی لاء افسران کی تعیناتی کیلئے اہلیت اور ماہانہ مراعات کی تفصیلات سامنے آگئیں

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: وفاقی اورصوبائی لا افسران کی تعیناتی کیلئے لازمی اہلیت کی تفصیلات سامنے آگئیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل کیلئے سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کی اہلیت ہونا لازمی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر لا افسران کی تعیناتی کے لیے لازمی اہلیت اور ماہانہ مراعات کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ، جن کے تحت مختلف عہدوں کے لیے الگ الگ قانونی تجربہ اور پیشہ ورانہ اہلیت مقرر کی گئی ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا کہ وفاق میں ڈپٹی اٹارنی جنرل بننے کے لیے امیدوار کا سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کی اہلیت رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

پنجاب میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے کے لیے امیدوار کا سپریم کورٹ کا وکیل ہونا اور ہائی کورٹ میں کم از کم 10 سالہ وکالت کا تجربہ لازمی ہوگا، جبکہ سندھ میں اسی عہدے کے لیے ہائی کورٹ میں کم از کم 7 سالہ وکالت کا تجربہ درکار ہوگا۔

بلوچستان میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے لیے ہائی کورٹ کا جج بننے کی اہلیت اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر کم از کم 3 سالہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

دستاویزات میں لا افسران کی ماہانہ مراعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جس کے تحت سندھ میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 7 لاکھ 26 ہزار روپے، پنجاب میں 6 لاکھ 90 ہزار روپے، خیبرپختونخوا میں 5 لاکھ 76 ہزار روپے اور بلوچستان میں 3 لاکھ 10 ہزار 400 روپے مقرر ہیں، جبکہ وفاق میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ماہانہ مراعات 3 لاکھ 90 ہزار روپے ہیں۔

اسی طرح اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات پنجاب میں 5 لاکھ 70 ہزار روپے، سندھ میں 4 لاکھ 94 ہزار روپے، خیبرپختونخوا میں 4 لاکھ 22 ہزار روپے اور بلوچستان میں 2 لاکھ 30 ہزار روپے مقرر کی گئی ہیں، جبکہ وفاق میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی ماہانہ مراعات 2 لاکھ 4 ہزار روپے ہیں۔

اہم ترین

راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

مزید خبریں