The news is by your side.

Advertisement

حمزہ اورسلمان شہباز کی ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی داستان منظر عام پر آگئی

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ اور سلمان شہباز کی ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی داستان منظر عام پر آگئی، ذرائع کے مطابق ایم این اے بننے سے پہلے ٹی ٹی براہ راست حمزہ شہباز کے نام آتی رہی، 2008 میں ایم این اے بننے پر ٹی ٹی ان کے نام آنا بند ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق حمزہ شہباز کے بعد سلمان شہباز کے نام پر ٹی ٹی کا سلسلہ شروع ہوا، سلمان شہباز فرنٹ مینوں کے ذریعے بھاری رقم بیرون ملک سے منگواتے رہے، مشتاق چینی اور دیگر فرٹ مینوں نے رقم بیرون ملک سے وصول کیں۔

نیب ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز نے 23 ٹی ٹی بیرون ملک سے وصول کیں، ان کو بھیجی گئی 18 ٹی ٹی کا سراغ مل گیا ہے، حمزہ شہباز کو ٹی ٹی بھیجنے والے سرمایہ کار نہیں ہیں، ان کو پانچ ٹی ٹی جعلی طور پر بھی بھیجی گئیں۔

حمزہ شہباز کو پہلی ٹی ٹی 26 جون 2001 کو لاہور کے نجی بینک میں بھیجی گئی، پہلی ٹی ٹی 1 لاکھ 65 ہزار 780 ڈالر کی بھیجی گئی، رقم محبوب علی نامی شخص نے کے ایس منی ٹرانسفر سے بھجوائی، محبوب علی لاہور میں نئے اور پرانے نوٹ، پرائز بانڈز کا کاروبار کرتا ہے، محبوب علی کے پاس پاسپورٹ ہے اور نہ برطانیہ، پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 جولائی 2007 کو حمزہ شہباز کو لاہور میں ہی دوسری ٹی ٹی بھیجی گئی، یو اے ای سے بھیجی گئی ٹی ٹی کی مالیت دو لاکھ ڈالر تھی، دوسری ٹی ٹی عزیز ہارون یوسف نامی شخص نے بھیجی۔

اسی طرح 6 جولائی 2007 کو حمزہ شہباز کو تیسری ٹی ٹی بھیجی گئی، ان کو برطانیہ سے بھیجی گئی ٹی ٹی ایک لاکھ 66 ہزار ڈالر تھی، یہ رقم ایف ایکس کرنسی سروسز کی جانب سے بھیجی گئی، ان کو تیسری ٹی ٹی بھیجنے والے کا نام محمد رفیق ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق 11 جولائی 2007 کو چوتھی ٹی ٹی بھیجی گئی، حمزہ شہباز کو دبئی سے بھیجی گئی ٹی ٹی ایک لاکھ 28 ہزار ڈالر تھی، چوتھی ٹی ٹی پر بھیجنے والے کا نام عزیز ہارون یوسف درج تھا، حمزہ شہباز کو چوتھی ٹی ٹی بھی نجی بینک سرکلر روڈ برانچ میں بھیجی گئی۔

اٹھارہ جولائی 2007 کو پانچویں ٹی ٹی 1 لاکھ 66 ہزار ڈالر کی بھیجی گئی، حمزہ شہباز کو پانچویں ٹی ٹی بھیجنے والا شخص محبوب علی تھا، رقم لندن سے لاہور کے بینک میں بھیجی گئی۔

انیس جولائی 2007 کو محبوب علی نے 2 لاکھ ڈالر کی چھٹی ٹی ٹی بھیجی، حمزہ شہباز کو چھٹی ٹی ٹی بھی محبوب علی نے نجی بینک میں بھیجی۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ 23 جولائی 2007 کو حمزہ شہباز کو ساتویں ٹی ٹی بھیجی گئی، ایک لاکھ 68 ہزار ڈالر کی ساتویں ٹی ٹی بھی لاہور کے بینک میں بھیجی گئی، دستاویز کے مطابق ساتویں ٹی ٹی بھیجنے والے کا نام منظور احمد ہے۔

سلمان شہباز شریف کی ٹیلی گرافک ٹرانسفر کی داستان

ذرائع کے مطابق 2008 میں ٹی ٹی کا سلسلہ حمزہ شہباز کے فرنٹ مین کو منتقل ہوا، ٹی ٹی کا سلسلہ حمزہ شہباز کے ایم این اے بننے کے بعد منتقل ہوا، سلمان شہباز کے نام پر رقوم ٹی ٹی کی صورت میں 2017 تک آتی رہی، سلمان شہباز نے 99 فیصد اثاثے ٹی ٹی سے آنے والی رقوم سے بنائے، سلمان شہباز کو 200 کے قریب ٹی ٹی موصول ہوئیں۔

چار اپریل 2008 کو سلمان شہباز کو منظور احمد نے ٹی ٹی بھجوائی، کریم منی ایکسچینج کے نام سے ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر بھجوائے گئے، منظور احمد ملزم قاسم قیوم کی منی ایکسچینج میں کیش بوائے تھا، منظور احمد حمزہ شہباز کو بڑی رقوم سرمایہ کاری کی غرض سے بھیجتا تھا۔

شہباز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد بھی ٹی ٹی کا سلسلہ تھما نہیں تھا، 29 جولائی 2008 کو منظور احمد نے 1 لاکھ 85 ہزار ڈالر سلمان شہباز کو بھیجے، انہیں رقم بھیجنے کے لیے پھر کریم منی ایکسچینج کا استعمال ہوا، حمزہ شہباز کے بعد سلمان شہباز کو بھی ٹی ٹی اسی بینک میں آتی رہی، مبینہ فرنٹ مین مشتاق چینی کی ٹی ٹی بھی اسی بینک میں آتی تھی۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 فروری 2014 کو سلمان شہباز کو 89 لاکھ 63 ہزار 585 روپے ملے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں