The news is by your side.

Advertisement

نیب ترمیمی بل 2021 میں کیا ترمیم کی گئی ؟ تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد : شہباز حکومت کی جانب سے نیب ترمیمی بل 2021 میں کی گئی دوسری ترمیم کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل 2021 میں دوسری ترمیم شق وار منظوری دی گئی، بل کے متن میں کہا گیا کہ چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کردیا گیا، چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پرڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے۔

متن میں کہا کہ ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے سینئرافسر کو چارج ملے گا، وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے، مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں کابینہ فیصلے نیب دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے۔

ترمیمی بل میں کہا گیا کہ ترقیاتی منصوبے یا اسکیم میں بے قاعدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی ، کسی بھی ریگولیٹری ادارےکےفیصلوں پرنیب کارروائی نہیں کرسکے گا۔

بل کے متن کے مطابق احتساب عدالتوں میں ججزکی تعیناتی 3سال کےلیےہوگی، احتساب عدالت جج ہٹانے کیلئے چیف جسٹس ہائی کورٹ سے مشاورت ضروری ہوگی ، نئے چیئرمین نیب تقرر کے لیے مشاورت 2 ماہ پہلے شروع کی جائے گی۔

متن میں کہنا تھا کہ نئے چیئرمین نیب تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی جائے گا، پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی۔

بل میں کہا گیا کہ 3سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا جبکہ ڈپٹی چیئرمین تقرر کا اختیار صدر سے لیکر وفاقی حکومت کو دے دیا جائے، احتساب عدالتیں کرپشن کیسز کا فیصلہ ایک سال میں کریں گی۔

ترمیمی بل کے مطابق نیب انکوائری کے لیے نئے قانون کے تحت مدت کا تعین کردیا گیا، نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوئری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا، نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹے میں نیب کورٹ میں پیش کرنے کا پابند ہوگا۔

بل کے متن میں کہنا تھا کہ کیس کے دائر ہونے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکتی، نیب گرفتاری سےپہلےکافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائےگا، ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14 دن کر رہے ہیں جبکہ نیب ملزم کیلئے اپیل کا حق 10روز سے بڑھا کر 30 روز کر دیا گیا۔

ترمیمی بل میں کہا گیا کہ ریفرنس دائر ہونےتک کوئی نیب افسرمیڈیامیں بیان نہیں دےگا، ریفرنس سےپہلےبیان پرافسرکوایک سال قید ،10 لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا ، کیس جھوٹا ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو 5سال تک قید کی سزا ہو گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں