The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ، منحرف ارکان فیصلہ کن ثابت ہوں گے

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران منحرف ارکان فیصلہ کن ثابت ہوں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ منحرف ارکان کوووٹنگ کے دوران سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کا انتخاب ہنگامہ خیزہونے کا امکان ہے ، اجلاس میں منحرف ارکان فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منحرف ارکان کوووٹنگ کےدوران سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا، شکست کی صورت میں پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی سے بھی استعفے دے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کی پنجاب کی پارٹی قیادت اور اتحادیوں سے بات ہوئی۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رکنِ پنجاب اسمبلی طاہر خلیل سندھو نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے نمبرز دو سو سے زائد ہیں، ہمارے منحرف ارکان کی تعداد چار ہے کچھ پتہ نہیں ان کا ضمیر جاگ جائے۔

طاہر خلیل سندھو کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان ووٹ کاسٹ کریں گے، منحرف ارکان کوزیادہ سےزیادہ ڈی سیٹ ہی کیاجاسکتاہے، جس کا طریقہ کار آئین میں درج ہے۔

ن لیگ اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے نامزد وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز اپنی سربراہی میں منحرف اور پارٹی ارکان کو ہوٹل سے لے کر اسمبلی پہنچ گئے ہیں۔

حمزہ شہباز کی برابر والی نشست پر پی ٹی آئی منحرف علیم خان بیٹھے تھے ، ن لیگ ، اتحادی اور منحرف ارکان اسمبلی کو پانچ بسوں میں اسمبلی لایا گیا۔

خیال رہے پنجاب اسمبلی میں آج نئے قائد ایوان کیلئے ووٹنگ ہوگی، پی ٹی آئی اورق لیگ کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویزالہٰی جبکہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کے امیدوار حمزہ شہباز ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر پریذائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داریاں انجام دیں گے، قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ایک سو چھیاسی ارکان اسمبلی کے ووٹ درکار ہوں گے تاہم ووٹ پورے نہ ملنے پر قائدایوان کےانتخاب کا معاملہ رن آف الیکشن پرجائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں