راولپنڈی (6 جنوری 2026): ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ایک شخص اتنا بااختیار وزیر اعظم تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ بنا لیا تھا۔
سکیورٹی صورتحال اور دیگر امور کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک لیڈر تھا جو اپنی پارٹی کو ایک ڈکٹیٹر کی طرح چلاتا تھا، ساری پارٹی جمہوریت جمہوریت کرتی ہے جبکہ پارٹی کو تو ایک ہی شخص چلاتا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پوری حکومت کو صرف ایک ہی شخص چلا رہا تھا، جو اُس وقت کے ڈی جی آئی تھے وہ کہاں ہیں اُس وقت جن کو انہوں نے اپنی سیاست کیلیے استعمال کیا؟ یہ شخصیات کا کھیل تھا ادارے پر الزام نہیں لگا سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شخص وزیر اعظم تھا اور بااختیار تھا جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو اختیار ہی نہیں تھا، وہ اتنا بااختیار وزیر اعظم تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ بھی ڈیکلیئر کر دیا تھا، اتنا اختیار تو کسی وزیر اعظم کے پاس نہیں تھا کہ آرمی چیف کو قوم کا باپ بنا دے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو آج تک ایک ہی باپ دیکھا ہے قائد اعظم جنہوں نے یہ عظیم ملک بنایا، قوم کا ایک ہی شاعر ہے حکیم الامت علامہ محمد اقبال ہم تو ان کو ہی پڑھ کر آئے تھے، یہ شخص ایک نیا باپ لے کر آگیا ہے۔
سیاست سیاسی جماعتوں کا کام ہے
ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہمارا کام سکیورٹی پر بے لاگ رائے دینا ہے سیاست سیاسی جماعتوں کا کام ہے وہ کوئی حل نکال لیں گے، جو حکومت ہوتی ہے وہی ریاست ہوتی ہے اور پورے ملک کو لے کر چلتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ تمام ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہے ہیں، دہشتگردی ایک ایشو ہے اس کو کیسے حل کرنا ہے مکمل ہم آہنگی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست کا مسئلہ سیاسی جماعتیں بہتر حل کر لے گی، سیاسی جماعتوں نے بات چیت کرنی ہے تو حکومت سے کرے، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم سے بات چیت کریں۔
ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشو نہیں ہے
’خیبر پختونخوا کے مسئلے کا حل سیاستدانوں اور سیاست طور پر ہی حل کرنا ہوگا۔ ہمیں کسی سیاسی جماعت سے کوئی ایشو نہیں ہے۔ بلوچستان حکومت نے اچھا کام کیا ہے کہ تو ہم اس کا ذکر بھی کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت بھی اچھا کام کرے گی تو ہم اس کا بھی ذکر کریں گے۔‘


