The news is by your side.

Advertisement

باجوہ ڈاکٹرائن اگر ہے تو وہ سیکیورٹی اورامن کے لیے ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ نشر واشاعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن اگر ہے تو وہ  سیکیورٹی اورامن کےلیے ہے‘ بھارت کی طرف سے ہماری آنکھ کبھی بند نہیں ہوتی۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بریفنگ میں ملکی اور سرحدی صورتحال پر بات کروں گا‘ ملک میں اکانومی کی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ واقعات کے حساب سے بھرپور تھا‘ ۲۳ مارچ کو اسلام آباد میں شاندار پریڈ کا انعقاد ہوا‘ لاہور میں پی ایس ایل کے پلے آف میچز اور کراچی میں فائنل کا شاندا ر انعقاد ہوا‘ پریڈکےلیےاسلام آباد پولیس اوردیگراداروں کاشکرگزارہوں۔کراچی کےعوام فائنل کےلیےقطارمیں لگ کراسٹیڈیم پہنچے‘کراچی میں فائنل میں پاکستان زندہ بادکانعرہ لگتارہا۔

انہوں نے کرکٹ کی بحالی پر چیئرمیں پی سی بی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی کرکٹ کی بحالی پر ان کا شکراداکرتےہیں۔نجم سیٹھی سے کہیں گے کہ اگلے پی ایس ایل کےمیچزملک کےدیگرشہروں میں کرائےجائیں۔ انشااللہ! راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت دیگرشہروں میں بھی میچز ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نقیب اللہ کیس میں ملزمان کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، اس کیس میں راؤانوارعدالت میں پیش ہوچکے ہیں۔

سرحدی صورتحال پر نظر

ان کا کہنا تھا کہ امریکاایک سپرپاورہےاس میں کوئی شک نہیں ‘ ان کاملک کےہرخطےمیں کردارہے‘ اگر پاکستان اپنا کردار ادا نہ کرتا تو امریکا آج واحد سپر پاور نہیں ہوتا۔ ٹرمپ کے ٹویٹ سے پاک امریکا تعلقات پر فرق پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کااپناجغرافیہ ہےاس سےمتعلق چیزیں کرنےکی ضرورت ہے۔

ان کا کہناتھا کہ خواہش ہےسی پیک کوکامیاب بنائیں ‘ پاکستان کردارادانہ کرتاتوچین اورامریکامیں تعلقات قائم نہ ہوتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ خطے کےممالک کوپاکستان کوساتھ لے کر چلنےکی ضرورت ہے۔

بھارت کو ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی میں عالمی فوج کےخلاف بھرپورکرداراداکیا‘ اگریہ کردارادانہ کرتےتو دہشت گردی کےخلاف جنگ بھارت تک پہنچ چکی ہوچکی ہوتی‘ پاکستان نے بفر اسٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 948 بار سیزفائرمعاہدےکی خلاف ورزی ہوچکی ہے‘ بھارت کی شرانگیزی سے خطے میں امن کی صورتحال خراب ہونےکااندیشہ ہے‘ بھارت کو شہری آبادی کو نشانہ بنانےکاسلسلہ ختم کرناچاہیے۔،

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت سے خطرہ ہے اور اس سے ہماری آنکھ کبھی بند نہیں ہوتی، بھارت نے کوئی مہم جوئی کی توسخت جواب دیں گے، جب بھارت کی بات ہوتی ہے تو سب پاکستانی ایک ہوجاتے ہیں۔

بھارتی فائرنگ میں زخمی ہونے والی پاکستانی بچی

آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے سعودی عرب کادورہ بھی کیا‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سعودی عرب سے فوجی تعاون کا معاہدہ ہے۔پاکستانی دستےسعودی عرب ٹریننگ فراہم کرنےجاتےرہےہیں۔

پاکستان کےگلف ممالک سےبھی فوجی تعاون کےمعاہدےہیں اور پاکستان مشکل صورتحال میں انہیں مدد فراہم کرتا ہے ‘ اسی پاک سعودی معاہدے کے تحت وہاں موجود ناز ک صورتحال میں پاک فوج نے انہیں ٹریننگ فراہم کی۔

کراچی اور بلوچستان کی صورتحال

میجر جنرل آٓصف غفور کا کہنا تھا کہ 6سے8ماہ کےدوران تمام ترفوکس بلوچستان کی طرف ہے۔آپریشن ردالفسادکےتحت سرچ آپریشنزبلوچستان میں جاری ہیں اور اس میں ہمیں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے مسائل کو مدنظررکھتےہوئےوزیراعظم نےخوشحال بلوچستان پیکج دیا۔تربت کےکھلےاسٹیڈیم میں10ہزارلوگوں نے شرکت کی‘ شہریوں کی بڑی تعدادمیں شرکت امن کی بحالی ظاہر کرتی ہے۔

کراچی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کا کراچی 2013سے بہت مختلف ہے‘ 2013میں کراچی میں کرائم کی وارداتیں بہت زیادہ تھیں۔ 2018کاکراچی نیشنل اسٹیڈیم میں میچ کےدوران لوگوں نے دیکھ لیا۔کرائم کےلحاظ سےکراچی کانمبر6تھا اور آج اس عالمی فہرست میں کراچی کا56واں نمبرہے،شہرامن کی طرف لوٹ رہاہے۔ اس شہر میں اب شٹر ڈاؤن ہڑتال کا تاثر بھی ختم ہوچکا ہے اور کراچی میں صنعت بحال اوراسٹاک ایکسچینج اوپرجارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی رونقیں بحال ہونےکامطلب یہ نہیں کہ کام ختم ہوگیا‘ کراچی میں اب بھی کام کرناہے،امن کوآگے لےکرچلنا ہے۔

امن کی بحالی‘ سیکیورٹی ایجنسیز کا کارنامہ ہے

ان کا کہنا تھا کہ امن کی بحالی میں انٹیلی جنس ایجنسیزکی بھی کاوشیں شامل ہیں‘ 16خودکش حملہ آور انٹیلی جنس ایجنسیزنےگرفتار کئے اور ان گرفتار شدگان خودکش حملہ آورو ں 9افغانی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھاجائے‘ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے۔انٹیلی جنس ایجنسیزنے573دہشت گردی کےواقعات ناکام بنائے۔

باجوہ ڈاکٹرائن

جنرل باجوہ ڈاکٹرائن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر باجوہ ڈاکٹرائن ہے بھی تو اس کا میڈیا سے کوئی تعلق نہیں‘ جو بات بھی ہوتی ہے سیاق و سباق سے ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ باجوہ ڈاکٹرائن اگر ہے تو وہ سیکیورٹی اور امن کے لیے ہے‘ باجوہ ڈاکٹرائن کو سیکیورٹی پیرا میٹرز میں دیکھا جائے۔ انہوں نے اس حوالے سے اے آروائی نیوز کے پروگرام’ پاورپلے ‘ میں دیے انٹرویو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی اس حوالے سے یہی بات کی تھی۔

18ویں ترمیم

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف 18 ویں ترمیم کےخلاف نہیں، وہ صوبوں کواپنے فیصلے خود کرتے دیکھنا چاہتےہیں، صوبوں کو اپنے معاملات کا خود ذمہ دار اور اپنے فیصلے خود کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں