The news is by your side.

Advertisement

ہم جنگ نہیں چاہتے مسلط کی گئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن کسی بھی قسم کی مہم جو ئی کا بھر پور جواب دینے کیلئے ہر وقت تیار ہیں، سی پیک کے بعد دشمن بلوچستان میں کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا ہے کہ 2008 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی گئی، آپریشن شیردل سے خیبرایجنسی سے کارروائی کا آغاز کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70ہزارافراد نے جان کی قربانی دی۔


افغانستان میں امن کےحوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خواہش ہے افغانستان میں بھی جلد ازجلد امن ہو، پاک افغان سرحد پرسیکیورٹی اقدامات کئے ہیں، 34 ہزار اہلکار پاک افغان سرحد پر تعینات تھے، پاک افغان سرحد پرایف سی کے نئے قلعے تعمیر کئے ہیں، خواہش ہے افغانستان بھی بارڈرمینجمنٹ کے لئے کام کرے، ایف سی کے 29مزید ونگ بھی قائم کئے گئے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا بلوچستان کی صورتحال پر کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، سی پیک کے بعد دشمن بلوچستان میں کارروائیاں کرناچاہتے ہیں، دشمن را اور این ڈی ایس کی مدد سے کارروائیاں کرنا چاہتا ہے، کامیابی کے سفر میں بلوچ بھائی کا تعاون اور قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق کہا کہ کراچی میں دہشت گردی، بھتہ خوری میں 90فیصد کمی آئی ہے، کراچی میں اب بھی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ہوتی ہیں، رینجرز اور سندھ پولیس نے امن وامان میں اہم کردار ادا کیا، کراچی میں رینجرز نے 9ہزار سے زائد آپریشن کئے ،رینجرز کے 33اہلکار شہید اور 100سے زائد زخمی ہوئے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیس آپریشن سے دہشت گردی کاخاتمہ کرنا ہے، کشمیر سمیت بھارت سے تمام تصفیہ طلب معاملات کا مذاکرات سے حل چاہتے ہیں، امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، تین سال میں بھارت نے 945بار سیزفائر کی خلاف ورزی کی، چار ماہ میں بھارت نے 314بار سیزفائر کی خلاف ورزی کی، بھارتی جارحیت سے 46پاکستانی شہری شہید ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 40بھارتی فوجی مارے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا بھرپور جواب دیا جائے گا، پاک فوج کسی بھی جارحیت کاجواب دینے کے لئے تیار ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، افغانستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں پاکستان کسی طور ملوث نہیں، کچھ قوتیں اس دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگاتی ہیں، آپریشن میں زیادہ تردہشت گرد مارے جا چکے ہیں، کچھ دہشت گرد افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج کے 2 لاکھ جوان مردم شماری میں حصہ لیں گے، مردم شماری کے دوران باقی آپریشن جاری رہیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم سب نے اپنااپناکردار ادا کرنا ہے، ہمارا دفاع، سلامتی، ترقی، خوشحالی تمام ریاستی اداروں کی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں، بھارت نے سرحد پر سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ رچایا، قومی مفاد پر ہر چیز کو ترجیح دی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گرد نظریے کی حوصلہ شکنی پرمیڈیا کے کردارکو سراہتے ہیں، حافظ سعید پر پابندی کا فیصلہ ملکی مفاد میں ریاست نے کیا، لائن آف کنٹرول پرحالات معمول پرلانے میں پاک فوج کااہم کردار ہے، پاکستان ہم سب کا ہے، سب ملک کی ترقی کی طرف دیکھیں، جنگ نہیں چاہتے، مسلط کی گئی توبھرپور جواب دیں گے، بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑجواب دیاجائے گا، اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

میجر جنرل آصف غفورنے کہا کہ قومی مفاد ہر چیز پرمقدم ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سے مقاصد حاصل کرلئے۔

بلاگرز کی گمشدگی سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلاگرزکی گمشدگی سے پاک فوج کاکوئی تعلق نہیں، فوج اور انٹیلی جنس ادارے ریاست کاحصہ ہیں، ریاست کے تمام اداروں کا مقصد ایک ہے، جہاں بھی آپریشن کی ضرورت ہوئی ریاست کومشورہ دینگے، ریاست کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پرعمل کیا جائے گا، ریاست کے تمام ادارے مل کر کام کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکا فیصلہ ملکی قوانین کے مطابق ہوگا، ڈان لیکس کے معاملے پر انکوائری ہورہی ہے، امید ہے حکومت جلد انکوائری کے نتائج سامنے لائے گی، جب تک افغانستان دہشت گردی پرقابونہیں پاتایہ کم نہیں ہوگی، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے تک خطے میں امن نہیں ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا افغان قیادت سے کہا ہے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے افغانستان کادورہ کرنا ہے، کچھ قوتیں نہیں چاہتیں افغانستان میں امن قائم ہو، پاک افغان سرحد پرافغانستان کی بارڈر مینجمنٹ کمزور ہے، افغانستان میں امن کے لئے ہرممکن تعاون کریں گے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل چاہتے ہیں،عزت و وقار پر سمجھوتا نہیں کریں گے، چند عناصر قومی یکجہتی پر قیاس آرائیاں کرکے نقصان پہنچاناچاہتے ہیں، سی پیک اور گوادرپورٹ بلوچستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے،

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوجی عدالتوں سے سزائے موت کے16مجرموں کی رحم کا فیصلہ صدر نے کردیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں