The news is by your side.

Advertisement

جنگ نہیں چاہتے لیکن کہیں سے مسلط کی گئی تو منہ توڑ جواب دیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ جنگ کو پسند نہیں کرتے لیکن اگر ہم پر کہیں سے جنگ مسلط کی گئی تو منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں.

وہ پریس کانفرنس سے خطاب کرہے تھے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں اہم مقام رکھتا ہے اور گزشتہ چار برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم قربانیاں حاصل کی ہیں.

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں پرخطرات موجود ہیں، جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور پاکستان خطے میں اس مقام پر ہے جہاں اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اس خطے کے مفادات پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کےبعد پاکستان میں جنگ داخل کی گئی جس کے بارے میں آپ سب جانتے ہیں اور افغانستان میں گزشتہ کئی سالوں سے جنگ جاری ہے جب کہ پاکستان میں امن قائم کردیا گیا ہے اور پاکستان میں آج دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں ہے جس کے باعث اب پاکستان پرامن نظرآرہا ہے.

ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے کہا کہ افغانستان میں نیٹوسمیت افغان فوج بھی موجود ہے جب کہ افغانستان میں 50 فیصد سے زائد علاقہ حکومتی کنٹرول سے باہر ہے، افغانستان میں سیکیورٹی تھریٹ زیادہ ہیں اس لیے فوج سرحد پر رکھی ہے تاہم سرحد پر موجود فورس کا بڑا حصہ چھاؤنی میں واپس لے آئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اورداعش کی وجہ سے فوج مغربی سرحد پر رکھنے پرمجبور ہیں تاہم افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران سرحد پر بھی خطرات ہیں چنانچہ سرحد پر پاک فوج کی تعیناتی کو افغانستان یا ایران کے خلاف سرگرمی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیئے کیوں کہ تعیناتی تینوں ممالک کےمشترکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے.

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سرحد پرخطرہ زیادہ ہے جہاں بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے بلا اشتعال کارروائیاں کر رہا ہے اور بھارتی فوج کی فائرنگ کے رواں سال میں 222 افراد نشانہ بنے ہیں جس پر بھارتی فوج کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات ہیں کچھ غلط فہمیاں ضرور ہیں جسے دور کرلیا جائے گا جس کے آرمی چیف قمر باجوہ جلد ایران کا دورہ کریں اور ایران کے اعلیٰ حکام سے اہم دفاعی امور پر گفتگو کریں گے جب کہ قبل ازیں آرمی چیف افغانستان کا بھی دورہ کرچکے ہیں ۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے جب کہ ملک بھر میں کامبنگ آپریشن بھی جاری ہیں جس کے مثبت اثرات دیکھے جا سکتے ہیں اسی طرح خیبر فور کے کامیاب  آپریشن کے تحت اب کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور جلد مکمل علاقہ کلیئر کروالیا جائے گا ۔

 میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ ان آپریشن کی کامیابیوں کے ثمرات رواں سال محرم میں دیکھے جا سکتے ہیں جو نہایت پرامن رہا اور باوجود اس کے کہ بلوچستان و کراچی میں سیکیورٹی خدشات اور دھمکیاں تھیں جنہیں ناکام بنایا گیا جس کے لیے ماہ محرم میں تمام اداروں نےانتھک کام کیا اور دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کراچی میں بوہرہ کمیونٹی کا اجتماع تھا جسے بھرپور سیکیورٹی دی گئی جس میں شرکت کے لیے 21 ہزارغیر ملکی کراچی آئے تھے اور دہشت گردوں کی بوہرہ کیمونٹی کے اجتماع پر بھی نظر تھی لیکن سیکویرٹی اداروں نے اس اجتماع کی روزانہ کی بنیاد پر بہترین تحفظ دیا اور لوگوں کو سیکیورٹی مہیا کی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہی نہیں بلک ورلڈ الیون ٹیم  نے لاہور میں میچ کھیلا اور وزیرستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کرکٹ میچ  ہوا اور آنے والے دنوں میں کراچی میں بھی ہاکی کا میچ ہو رہا ہے، یہ سب وہ کامیایاں ہیں جس پر پوری قوم کو اپنی فوج پر فخر کرنا چاہیے جس نے عوام کی مدد سے ہر قسم کی دہشت گردی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔

صحافی کے سوال پر کہ اسپیشل کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ کیوں جاری نہیں کیا گیا جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیا کہ خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے ۔

انتخابی اصلاحات بل میں  ترمیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت پرمسلمان کی جان قربان ہے ختم نبوت پر پاک فوج بھی کوئی سمجھوتہ کرسکتی ہےنہ کرے گی۔

حافظ سعید اور ملی مسلم لیگ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر پاکستانی کو سیاست میں حصہ لینے کا حق ہے، ریاست کے طور پر روہنگیا، فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں سے ہمدردی ہے،اسے کسی اور چیز نہ جوڑے جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسے معاملات ریاستی طور پر ہوتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد سیاسی طور پر ہے اور سیاسی جدوجہد کو نان اسٹیٹ ایکٹر ہینڈ اوور کریں گے تو بڑا نقصان ہوگا۔

وزیرداخلہ کو عدالت سے باہر رینجرز افسر کی جانب سے روکے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پولیس نے ایک خط کمشنرکو لکھا اوراس کی کاپی رینجرز کو بھی بھیجی تھی اور رات میں تعیناتی کی جگہ کا دورہ بھی کیا گیا تھا اور اہلکار کو ہدایت تھیں کہ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہے۔

چنانچہ اگر آرمی چیف قمر باجوہ نےکسی جگہ پر کارڈ نہیں لگایا ہو تو اہلکار انہیں بھی کہتا ہے کہ کارڈ نہیں ہے اس لیے رینجرز اہلکار کی فرض شناسی اور ڈیوٹی کی انجام دہی کی تعریف کی جانی ہے اور کسی کو اس پر ناراض ہونے کی ضرورت نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر آصف غفور نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فوج آئین کے مطابق کام کرے گی اور پاک فوج کے لئے سب سے پہلے اس ملک کی حفاظت ہے تاہم یہ تاثر دینا کہ مارشل لا کا خطرہ ہے یہ بالکل غلط اور لغو ہے کیوں فوج  آئین میں رہتے ہوئے اپنا کام جاری رکھے گی اور سپریم کورٹ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے کہا احستاب عدالت میں تینوں ایجنسیوں کے لوگ موجود تھے اسے ادروں میں تصادم سے تعبیر نہیں کیا جائے بلکہ یہ تعاون اور معاونت میں اضافے کے لیے اداروں کے درمیان کورآرڈینیشن ہے اور اداروں کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں