The news is by your side.

Advertisement

”پاک فضائیہ نے بھارتی فلائنگ اوبجیکٹ مار گرایا“

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان ایئر فورس نے میاں چنوں میں بھارت کی جانب سے آنے والے فلائنگ اوبجیکٹ کو مار گرا دیا ہے۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 9 مارچ 2022 کو 6 بج کر 33 منٹ پر میاں چنوں میں واقعہ پیش آیا جہاں ایئر فورس نے بھارت سے آنے والا فلائنگ اوبجیکٹ کو میاں چنوں میں گر گیا، پاکستان ایئر فورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں، حادثے کی وجہ جو بھی ہو، بھارت کو جواب دینا ہوگا، واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں، مختلف سوالوں کے جواب ابھی ملنا باقی ہیں، بھارت کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس معاملے میں کئی چیزیں وضاحت طلب ہیں، واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، بھارت سے سپر سانک چیز پاکستان میں 100 کلو میٹر اندر آئی، فلائنگ اوبجیکٹ 3 منٹ 24 سیکنڈ پاکستانی حدود میں رہا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسی دہشت گردتنظیمیں ہیں جن کوکنٹرول کرنےمیں انہیں وقت لگےگا، ایئرڈیفنس ٹیسٹنگ ہوتی رہتی ہے،وضاحت بھارت دےگا، بھارت میں تجربےبھی ہورہےہوتےہیں، بھارت کےاس قسم کےتجربات کرنےوالےادارےکوبھی دیکھناچاہیے، بھارتی ادارےکوبھی اپنی ٹیکنالوجی اورذمہ داری پرتوجہ دینی چاہیے، رفتاراورفاصلہ طےکرنےکی صلاحیت سےلگتاہےمیزائل تھا، بھارت کووضاحت دیناہوگی یہ کس قسم کی چیزتھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری کیسی تیاری ہےاندازہ لگاسکتےہیں، آبدوزکوتلاش کیاوارننگ دےکرواپس بھیجا، میزائل ہوامیں تھااورہم نےتلاش کرکےاسےبھی گرادیا،سب کومعلوم ہوناچاہیےپاکستان کی حدودکی طرف آنےوالوں پرہماری نظرہے، پاکستان کی حدودمیں داخل ہونےوالےکسی بھی اوبجیکٹ سےنمٹنےکیلئےتیارہیں۔

”فوج کاسیاست سےکوئی لینادینانہیں“

ایک سوال کے جواب میں ترج پاک فوج نے کہا کہ فوج کاسیاست سےکوئی لینادینانہیں ہے، اس معاملےمیں مزیدبحث نہ کی جائے،یہی سب کیلئےاچھاہے، سیاست کےسوال کامیں واضح جواب دےچکاہوں،انگلیاں اٹھانےوالوں اور دعویٰ کرنےوالوں سےپوچھیں،فوج کاسیاست سےتعلق نہیں جوسوال اٹھارہےہیں ان سےسوال کریں،فوج پرمداخلت کاالزام لگانےوالےثبوت لائیں،ماضی میں بھی الزامات کاکوئی ثبوت نہ لاسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں