The news is by your side.

Advertisement

انتظار کرنا ہوگا کہ افغانستان میں کیسی حکومت بنتی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا ہے کہ انتظار کرنا ہوگا کہ افغانستان میں کیسی حکومت بنتی ہے، ہم افغانستان کی حکومت کیساتھ تعاون کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار نے افغانستان کی صورتحال پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں افغان امن عمل پر کیا ہوا اس کے بجائے موجودہ صورتحال سمیت فوجی پہلو پر بات کروں گا، شہدائے پاکستان ہمارا فخر ہیں، افغان صورتحال کے تناظر میں سکیورٹی اقدامات کئےہیں، پاکستان کی طرف سےبارڈرسیف اینڈ سیکیور ہیں۔

موجودہ صورتحال کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال غیرمتوقع تھی ، طالبان کے خوف میں افغان فوجیوں نےبھی ہم سےمحفوظ راستہ مانگا ، صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام چیک پوائنٹس پر دستے تعینات کئے،پاکستان میں امن کےلئے مناسب اقدامات کئے گئے ہیں۔

پاک افغان بارڈر پر صورتحال سے متعلق میجرجنرل بابرافتخار نے بتایا کہ 15اگست کی صورتحال کے بعد بارڈر کھولے گئے ، بارڈر اس لئے کھولے کہ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے ، موجودہ صورتحال میں افغانستان سے 113فلائٹس پاکستان آچکی ہیں، تاہم پاک افغان بارڈر پر صورتحال معمول کے مطابق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد پرنقل وحرکت کوپہلےہی کنٹرول کرلیاتھا لیکن موجودہ صورتحال افغانستان کے بعد سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 86 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا اور دہشتگردی کے باعث مشرقی سرحد پر 3بار کشیدگی کا سامنا رہا ، مشرقی سرحد پر 12312 سیزفائرکی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارڈر پر کئے گئے اقدامات کے حوالے سے کہا کہ ہم نےپاک افغان بارڈرکیلئےبہترین اقدامات کیے، پاک افغان بارڈر پر 78کراسنگ پوائنٹس ہیں، ماضی میں افغان حکومت کیساتھ بارڈرمینجمنٹ پر بات کرتے رہےہیں، لیکن غیر مؤثر بارڈر مینجمنٹ کے باعث دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے۔

میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ ملٹری قیادت کی جانب سے افغانستان کے 7اعلیٰ سطح دورے کئے گئے ، آرمی چیف نے 4بار دورہ کیا ، ہم نے انٹیلی جنس شیئرنگ کی پیشکش کی، افغانستان سیکیورٹی فورسز کو ٹریننگ سہولت کی پیشکش بھی کی گئی لیکن افغانستان نے اپنے ہزاروں فوجیوں کو بھارت سےٹریننگ دلانے پرترجیح دی،بھارتی فوج کے افسران بھی تربیت کیلئے افغانستان آتے رہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی مدداس لئے کرنا چاہتے تھے کیونکہ پاکستان کاامن براہ راست وابستہ ہے، ہم نے افغان ملٹری چیف کوپاکستان کی ملٹری پریڈمیں بھی مدعو کیا، سرحد پر قانونی کاغذات کےساتھ نقل وحرکت کی اجازت ہے۔

بارڈر پر باڑ لگانے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر پر 90فیصد باڑ لگائی جاچکی ہے، افغان بارڈر پر پاکستانی حدود میں 1238پوسٹیں قائم ہیں جبکہ ایران کیساتھ بارڈر پر باڑ لگانے کاکام بھی 50فیصد مکمل ہوچکاہے ، ہم نے افغانستان میں بعض عناصرکےمنفی کردارپردنیاکوآگاہ کیا ہے۔

یوم دفاع کے حوالے سے میجرجنرل بابرافتخار نے کہا اس بار ہمیشہ کی طرح یوم شہدا قوم کے ساتھ ملکرمنائیں گے، اس بار ’’وطن کی مٹی گواہ رہنا ‘‘یوم دفاع کا موضوع ہے ، ہر سال 6 ستمبر 1965کی مناسبت سے یوم دفاع اور شہدا منایاجاتاہے، اس موقع پر شہر،گاؤں، گلی ،محلوں میں جہاں شہداہیں ان کے گھروں کو جاکر سلام کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ داسو،لاہور،کوئٹہ واقعات این ڈی ایس اور’’را‘‘کےگٹھ جوڑکی وجہ سےہوئے، پاکستان نے بارہا افغانستان میں اسپائلرز کےکردار سے دنیا کو آگاہ کیا تاہم سرحد کے اس پار صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔

میجرجنرل بابرافتخار نے مزید کہا کہ آئین پاکستان عوام کی امنگوں کامظہرہے، وہی پاکستان کاسسٹم تھااوررہےگا، انتظار کرنا ہوگا کہ افغانستان میں کیسی حکومت بنتی ہے، ہم افغانستان کی حکومت کیساتھ تعاون کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایس پاکستان کیخلاف را کی مدد کرتی رہی ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رہیں، طالبان نے کہاکسی کوپاکستان کیخلاف سرزمین استعمال نہیں ہونےدیں گے ، افغان فوج کہاں گئی فی الحال کوئی معلومات نہیں ، کسی قسم کے فوجی تعاون کیلئے افغانستان میں حکومت کا بننا ضروری ہے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغان بارڈر سے مہاجرین پاکستان نہیں آئے ، افغانستان سے دستاویز کے حامل افراد کو داخلے کی اجازت دی جارہی ہے، پاکستان کی سرحدی حدودافغانستان کیساتھ کافی لمبی ہے، بھارت کااثرخطےاورافغانستان سےختم ہوگا، کسی کو بغیر دستاویز پاکستان میں داخل نہیں ہوناچاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں