اتوار, اگست 9, 2026
اشتہار

ڈی جی آئی ایس پی آر نے 2025 کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال قرار دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 2025 کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سال 2025 میں دہشت گردی کیخلاف اقدامات کا جائزہ پیش کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ پوری قوم اورریاست کی جنگ ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف کیا جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ 2025 میں ریاست پاکستان اور عوام میں دہشت گردی کیخلاف مکمل وضاحت آئی ہے، افغانستان 2025 میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بنا رہا ، افغانستان میں دہشت گردی کے بیس آف آپریشن کے پاکستان کے بیانیے کو دنیا نے تسلیم کیا اور دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے اقدامات کوسراہا۔

ترجمان نے کہا کہ ریاست پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف مؤقف بالکل واضح ہے، دہشت گردوں کا بلوچستان یا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، فتنہ الہندوستان اور فتنہ خوارج کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔

آپریشنل اعداد و شمار اور کامیابیاں

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 2025 میں دہشت گردی کے خلاف 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2,597 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 1,237 سیکیورٹی اہلکار اور 1,235 شہری شہید ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا میں 2025 کے دوران 3,811 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، خیبر پختونخوا میں 14,658 جبکہ بلوچستان میں 58,700 سے زائد آپریشنز کیے گئے۔

فتنہ خوارج کا نمبر 2 کمانڈر امجد مزاحم (نور ولی محسود کا نائب) بھی سرحد پر مارا گیا۔

نیشنل ایکشن پلان

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان واحد متفقہ دستاویز ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے  اور دہشت گردی کے خلاف کامیابی اسی پر مکمل عملدرآمد سے ممکن ہے۔

خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجوہات

ڈی جی آئی ایس پی آر نے صوبہ خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا سوال اٹھتا ہے دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات خیبرپختونخوا میں کیوں ہو رہے ہیں، دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں ایک سیاسی ماحول دیا جاتا ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیرر گٹھ جوڑ موجود ہے۔

امریکا کا چھوڑا گیا اسلحہ

انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان سے انخلا کے وقت 7.3 ملین ڈالر کا جدید اسلحہ وہیں چھوڑا گیا، جو بعد ازاں بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہوا اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگا، جس میں جدید رائفلز، نائٹ وژن اور بلٹ پروف جیکٹس شامل تھیں۔

پاک – افغان سرحد اور سخت جوابی کارروائی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اکتوبرمیں پاک افغان بارڈر پر پاکستانی پوسٹ پر حملہ ہوتا ہے، پھر جو ضروری تھا وہ بھی ریاست پاکستان نے کیا، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو تباہ کیا گیا، پاکستان کی جانب سے افغانستان کو بڑا سخت پیغام دیا گیا، اس کے بعد بارڈر کو بند کر دیا جاتا ہے، بارڈر بند کرنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات کم ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی اے نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کو نشانہ بنایا اور یہ ریاست پاکستان کا آئینی اور قانونی حق تھا، بھارت کو کسی صورت یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستانی شہریوں یا انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچائے۔

10 بڑے دہشت گرد حملے

ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ سال ہونے والے 10 بڑے دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں بنوں کینٹ، جعفر ایکسپریس، نوشکی بس، خضدار اسکول، ایف سی ہیڈکوارٹر، کیڈٹ کالج وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس شامل ہیں ، ان میں تمام خودکش بمبار افغان شہری تھے، جبکہ ان واقعات میں 78 دہشت گرد ہلاک اور 60 شہری شہید ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ یہ جنگ صرف فوج کی ہے، یہ پاکستان کے ایک ایک بچے کی جنگ ہے، اور اگر قوم متحد نہ ہوئی تو دہشت گرد گلی گلی پھیل جائیں گے۔

شہداء کو خراجِ تحسین

انہوں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے قربانیاں دی جا رہی ہیں اور یہ جنگ ہر حال میں جیتی جائے گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مجموعی طور پر 1,235 پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 1,237 افسران اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 10 بڑے دہشت گردی کے واقعات میں 60 عام شہری شہید ہوئے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں