راولپنڈی : پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہےکہ معرکہ حق میں پاکستان نے دنیا کو جو دکھایا وہ دس فیصد بھی نہیں تھا، ہم تیار ہیں، کسی نے آزمانا ہے تو آزمالے، کسی کا باپ بھی پاکستان پرآنچ نہیں لا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (آپریشنز) ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان اور ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (پروجیکٹس) ایئر وائس مارشل طارق محمود غازی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ’معرکہ حق‘ کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان نے سیاسی و عسکری قیادت کے وژن کے مطابق اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکستِ فاش دی اور اللہ کے فضل سے افواجِ پاکستان قوم کی امنگوں پر پوری اتری ہیں۔
بھارتی بیانیہ اور فالس فلیگ آپریشنز کی ناکامی
ترجمانِ فوج نے کہا کہ بھارت نے ایک عرصے سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا جھوٹا بیانیہ بنانے اور اسے عالمی سطح پر فروخت کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے تمام ‘فالس فلیگ آپریشنز’ بری طرح ناکام ہوئے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلگام واقعے کے محض 15 منٹ بعد ایف آئی آر کیسے درج ہوگئی؟ اگر بھارتی فورسز اتنی ہی الرٹ تھیں تو لوگ اتنے کلومیٹر اندر کیسے آگئے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج بھی عالمی برادری سوال کرتی ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے کون ہے؟ بھارت کا بچہ بچہ اورمثبت رویہ رکھنےوالےسوال کرتےہیں کہ ثبوت کہاں ہیں، پہلگام واقعےسےمتعلق آج بھی سوال موجودہیں بھارت نے جواب نہیں دیا کیونکہ بھارت نے جو بیانیہ بنایا تھا وہ اب زمین بوس ہو چکا ہے۔
پاکستانی تحمل اور بھارتی اشتعال انگیزی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ معرکہ حق کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے باوجود خطے کے استحکام کے لیے فوری جواب دینے میں تحمل کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، جب جواب دیا گیا تو وہ ایسا منہ توڑ تھا کہ بھارت کا بچہ بچہ آج بھی اس کامیابی کو جانتا ہے اور "پاکستان پر الزام لگانے والے خود سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔”
بھارتی ملٹری لیڈرشپ اور سیاست
ترجمان نے بھارتی فوج کے پیشہ ورانہ معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک سال کے دوران بھارت کی پروفیشنل ملٹری کو سیاست زدہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بھارتی ایئر چیف کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک پروفیشنل آدمی کئی ماہ بعد کہتا ہے کہ ‘آج پتہ چلا ہم نے بھی جہاز گرائے’، بھارتی حکومت اپنی عسکری قیادت کو ‘جوکر’ بنا کر پیش کر رہی ہے، بھارتی سیاستدان خود کو جنگجو ظاہر کرتے ہیں، اگر اتنی ہمت ہے تو سامنے آئیں۔
ترجمانِ فوج نے بھارتی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ تنزلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہندوستان کی پروفیشنل ملٹری لیڈرشپ اب مکمل طور پر سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔ بھارتی حکومت اپنی عسکری ناکامیوں کا ملبہ ایک عام سپاہی پر ڈال کر اعلیٰ قیادت کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے سیاستدان اب مدبر کم اور ‘جنگجو’ زیادہ لگتے ہیں، جو ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت جیسے کھوکھلے نعروں کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
دہشت گردی کا ڈرامہ ختم
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت کا ‘نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر’ بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے، بھارت کی مکاری اب دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی ہے اور دہشت گردی کا ڈرامہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے، بھارت بیانیہ بنارہاتھاکہ پاکستان دہشتگردی کرواتاہے، بھارت نےبیانیہ بنانےکی کوشش کی کہ ہم نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈ ہیں۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے مخلصانہ کوششیں کرنے والا واحد ملک پاکستان ہے۔
کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں
پاک فوج کے ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس پر اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی شکست کا غصہ مٹانے کے لیے ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ الہندوستان’ جیسے مہرے استعمال کر رہا ہے۔
بھارتی میڈیا اور ‘لاہور پورٹ’
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے ‘انٹرٹینمنٹ’ قرار دیا اور کہا بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹنگ میں لاہور میں پورٹ (بندرگاہ) تک بنا دی، جس پر ہماری نیوی والے بھی حیرت سے پوچھتے ہیں کہ لاہور میں یہ پورٹ کہاں واقع ہے؟
انہوں نے بھارتی میڈیا اور حکام کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی عوام سے جھوٹ بولنا بند کریں اور سچائی کا سامنا کرنا سیکھیں۔
کثیر الجہتی جنگ
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘معرکہ حق’ اور ‘بنیان مرصوص’ کے تناظر میں جنگ کی نئی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا صرف ایل او سی تک محدود نہیں: یہ اب صرف لائن آف کنٹرول کی روایتی جنگ نہیں رہی بلکہ ایک کثیر الجہتی جنگ ہے، یہ جنگ اب گلی محلوں، سرحدوں، سائبر اسپیس اور انفارمیشن ڈومین تک پھیل چکی ہے۔ پاکستان اس کثیر الجہتی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہر سطح پر مکمل تیار ہے۔
.دہشت گردی کا بھارتی چہرہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اصل دہشت گردی وہ ہے جو بھارت مقبوضہ کشمیر میں معصوم شہریوں پر ڈھاہ رہا ہے، بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے خود اپنے لوگوں کو مار کر الزامات پاکستان پر لگاتا ہے، لیکن اب دنیا اس کے اس مکر و فریب کو پہچان چکی ہے۔
بھارتی پراکسیز اور منہ توڑ جواب
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی اشتعال انگیزیوں اور پراکسیز کے حوالے سے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی حفاظت کرنا جانتا ہے اور کسی کو بھی ملک کی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ روایتی ہو یا غیر روایتی، پاکستان ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
ترجمانِ فوج کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلے بھی پاکستان کے خلاف پراکسیز لانچ کیں اور اب بھی کر رہا ہے، لیکن ہم نے ہمیشہ ان کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور آئندہ بھی انہیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے، "ہمیں اپنی صلاحیتوں پر پورا یقین ہے، دشمن جو بھی طریقہ اپنائے، اسے جواب ملے گا۔”
ایٹمی طاقت اور جنگ کا پاگل پن
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ایٹمی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کوئی ‘معمولی’ جنگ ہو سکتی ہے، وہ پاگل پن کا شکار ہیں، دشمن کو یاد رکھنا چاہیے کہ ‘معرکہ حق’ اور ‘بنیان مرصوص’ کے ذریعے ہم نے اپنی طاقت کی صرف ایک قسط دکھائی ہے،کسی کو ہمارے عزم پر شک نہیں ہونا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج پوری دنیا پاکستان کی ‘پولیٹیکو ملٹری ڈپلومیسی’ اور بڑھتے ہوئے وقار کو دیکھ رہی ہے، جن لوگوں کو اندر یا باہر سے شک تھا، انہوں نے دیکھ لیا کہ پشاور سے گوادر تک بچہ بچہ، غریب اور امیر اپنی فوج اور لیڈرشپ کے ساتھ ایک دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ یہ ملک، اس کی فوج اور عوام ایک ہیں۔
بھارتی فوج پر طنز
ترجمان نے بھارتی فوج کے پروفیشنلزم اور انتہاپسند سوچ پر شدید طنز کرتے ہوئے کہا بھارتی فوج کا حال یہ ہے کہ وہ ‘سندور’ سے باہر ہی نہیں نکل رہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "سندور سے باہر نکل کر کوئی مردانہ نام ہی رکھ لو، اپنے مرد فوجیوں کو کون سے سندور لگوا رہے ہو؟”
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی ہندوتوا سوچ کی وجہ سے وہاں مسلمان، ہندو، مسیحی اور قبائل سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ بھارتی فوج کے پاس اب دنیا کو بتانے یا کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا، جبکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مخلصانہ کوششیں صرف پاکستان کر رہا ہے۔
بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی اور افغان سرزمین
انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ ’معرکہ حق‘ میں بھارت کی تاریخی شکست کے بعد ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کے حملوں میں تیزی آئی، جس کا جواب دینے کے لیے شروع کیے گئے ’آپریشن غضب للحق‘ کے دوران اب تک 1800 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان شروع سے ہی دنیا کو بتاتا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے، پاکستان نے کئی مرتبہ افغان حکام کو آگاہ کیا کہ بھارت ان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کر رہا ہے، لیکن مناسب کارروائی نہ ہونے پر پاکستان نے خود ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ہم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں اور یہ کارروائیاں فخر سے دنیا کو دکھاتے بھی ہیں۔
بھارت اور افغان رجیم کا خفیہ گٹھ جوڑ
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم سفارتی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب معرکہ حق میں بھارت کو شکست ہوئی تو نام نہاد اسلام کا دعویدار افغان رجیم کا خود ساختہ وزیر خارجہ بھاگا بھاگا بھارت پہنچا، بھارتی حکومت نے اس نام نہاد افغان رجیم کو بلا کر مدد کی یقین دہانی کرائی تاکہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے نیٹ ورک کو برقرار رکھا جا سکے۔
’آپریشن غضب للحق‘ کے مثبت نتائج
ترجمان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے فوراً بعد ’آپریشن غضب للحق‘ شروع کیا گیا،اس آپریشن کے نتیجے میں 1800 سے زائد دہشت گرد مارے گئے اور بارڈر کے ذریعے دہشت گردوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یہ دہشت گرد گروہ معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن افواجِ پاکستان ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پرعزم ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


