The news is by your side.

Advertisement

حتمی اتھارٹی وزیراعظم ہیں‘ ان کے حکم پر عمل ہوگا: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہماری پریس ریلیز حکومت یا کسی شخصیت کے خلاف نہیں تھی‘ ریلیزکی بنیاد پر حکومت اور فوج کوآمنے سامنے کھڑا کیاگیا‘ ان کا کہنا تھا کہ حتمی اتھارٹی صرف وزیراعظم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جی ایچ کیو میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت کو سراہتے ہیں کہ اس نے غلط فہمیوں کو دور کیا‘ پاک فوج جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنا ایک عام پاکستانی کرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پہلے جو نوٹی فیکیشن جاری کیا تھا وہ نامکمل تھا ‘ آج مکمل ہوگیا ہے اس لیے ٹویٹ واپس لے لیا گیا ہے۔


پاک فوج نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا ٹویٹ واپس لے لیا


ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کورٹ نے اپنی تحقیقات مکمل کی اور ان تحقیقات کے نتیجے میں جو نام سامنے آئے ان کے خلاف حکومت نے کارروائی کی۔

ڈان لیکس کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں فائنل اتھارٹی صرف وزیراعظم ہیں اور وہ جو حکم دیں گے اس پر عمل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے عہدے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں آرمی کے شعبہ اطلاعات کا ڈائریکٹر جنرل ہوں اور فوج کے تمام عہدوں سے واقف ہوں ، ان کے حوالےسے جواب دے سکتا ہوں لیکن سویلین عہدوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکوں گا۔

ایران کے آرمی چیف کا بیان


ایران کے آرمی چیف کے بیان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ملک کے ماحول کے مطابق بیان دیا اس معاملے پر ایران سے بات ہوچکی ہے ‘ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اوراس کے ساتھ ہمارا بارڈر مینجمنٹ کا سسٹم موجود ہے جسے آگے بھی جاری رکھا جائے گا۔

ان کاکہنا تھا کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہمارے دشمن کا انداز کیا ہے اور وہ ہمیں کس طرح سے الجھانا چاہ رہا ہے۔ یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا دور ہے اور پاک فوج اور عوامِ پاکستان نے اچھی اننگ کھیلی ہے‘ ہم یہ جنگ جیتنے والے ہیں۔

چمن بارڈر


انہوں نے ڈان لیکس سے متعلق مزید گفتگو سوالات کے وقفے تک ملتوی کرتے ہوئے چمن بارڈر پر پیش آنے والے افسوس نا ک سانحے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہچمن بارڈر پردو منقسم گاؤں ہیں، افغان حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود وہاں سے دخل اندازی کا سلسلہ جاری رہا۔

ایل او سی پرکشیدگی


ان کا کہنا تھا کہ ایل او سی پربھارتی فوجیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں‘ انڈیا دنیا کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ اس معاملے کے بعد بھارت نے ہمارے ان شہریوں کے لیے جو علاج  کی غرض سے بھارت جانا چاہتے تھے ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کردی ہیں۔

کلبھوشن یادو کی سزا


ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادو کو سزا ثبوتوں کی بنا پر ملٹری کورٹس نے سنائی ہے اور سزا کے حوالے سے ملٹری کا اندرونی پراسس ابھی جاری ہے۔

اگر اس کے حوالے سے کوئی عالمی سطح پر حکومتِ پاکستان سے درخواست کی جائے گی تو دفترِ خارجہ اس پر آپ کو پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔

نورین لغاری


نورین لغاری کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ وہ انیس سال کی ایک بچی ہے جو دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گرد بننے جارہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگریہ میری یا آپ کی بیٹی ہوتی توکیا ہم تصور کرتے کہ اس کے ساتھ دہشت گرد کا سارویہ اختیارکیا جاتا۔

جب نورین لغاری معاشرے کا حصہ بنے گی اور نوجوان نسل کو بتائے گی کہ کس طرح اسے اس جال میں پھنسایا گیا اور اس کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

احسان اللہ احسان کا ویڈیو بیان


احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کی ویڈیو سے متعلق میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس پر ملک کا قانون لاگو ہوگا اوراس کے حساب سےسزا دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو جاری کرنے کا مقصد اسے ہیرو بنا کر پیش کرنا نہیں تھا بلکہ دنیا کو باور کراناتھا کہ طالبان نے کیا کیا کارروائیاں کی ہے اور پاکستان کے لیے کس طرح مشکلات پیدا کی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں