پشاور (3 نومبر 2025): ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔ پاکستان پالیسی بنانے میں خودمختار اور اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ آئین میں ترمیم حکومت اور پارلیمنٹ کا کام ہے، تاہم آئینی ترمیم پر حکومت نے تجاویز مانگیں تو اپنی سفارشات دیں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں۔ منتخب سیاستدان ریاست بناتے ہیں اور اداروں کو ریاست کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ گورنر راج سے متعلق فیصلے کا دائرہ اختیار حکومت کے پاس ہے۔ فوج سیاست میں الجھنا نہیں چاہتی، فوج کا اس سے دور ہی رکھا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتی، دہشتگردی کا خاتمہ اہم ہے۔ دہشت گردوں سے کبھی بات نہیں ہوگی۔ افغان طالبان کو پاکستان کا رسپانس فوری اور موثر تھا۔ پاکستان کے رسپانس کے وہی نتائج نکلے جو ہم چاہتے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان میں منشیات اسمگلرز کی افغان سیاست میں مداخلت ہے اور وہاں سے بڑے پیمانے پر منشیات پاکستان اسمگل کی جا رہی ہے۔ افغانستان میں عبوری حکومت ہے جسے عوام اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں۔ وہاں ترقی کیلیے ایسی حکومت ضروری ہے جسے خواتین سمیت تمام طبقات کی حمایت حاصل ہو۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے یہ بھی بتایا کہ دوحہ اوراستنبول مذاکرات میں ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی اور یہ ایجنڈا افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلیے 6200 انٹیلی جنس آپریشنز کیے گئے۔ ان میں 1667 خارجی دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں میں 128 افغان باشندے بھی شامل تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ تیراہ اور کے پی میں خفیہ اطلاعات پر آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں۔ تیراہ میں پوست کی فصل کو تلف کر رہے ہیں۔ تاہم سیاسی جرائم پیشہ اور دہشتگرد گروپس ملک میں جرائم اور اسمگلنگ روکنے میں رکاوٹ ہیں۔ تیراہ ودیگر علاقوں میں جب دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف آپریشن کی بات ہو تو نمایاں سیاسی قوتیں آواز اٹھانا شروع کر دیتی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے وقت مدارس کی تعداد 38 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر ایک لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن اب بھی ایک سوال ہے۔


