site
stats
پاکستان

پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

تہران : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے پاک ایران سرحد کو امن دوستی کا بارڈر قرار دیا،پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور ایرانی جنرل اسٹاف افسر نے تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج اورحکومت کی میزبانی پرشکرگزارہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج کے سپہ سالار دوستی اورتعاون کاپیغام لے کرآئے۔ آرمی چیف نے پاک ایران بارڈرکوامن اوردوستی کا بارڈرقراردیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور  تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں، دہشت گرد پاک ایران دوستی سرحد کو غلط استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں پاک ایران سرحد پر سیکیورٹی بڑھانا دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش کا بڑھتا اثر و رسوخ خطے کیلئے خطرہ ہے،علاقائی سطح پر تعاون بڑھا کر اس خطرے کو شکست دینا ہوگی۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھ کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونےدیں گے، کشمیریوں کی امنگوں کےمطابق مسئلہ کشمیرحل کیےبغیرامن ممکن نہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی وفدایران سے مثبت تاثرات لے کرجارہا ہے۔


مزید پڑھیں : آرمی چیف جنرل قمرباجوہ کی ایرانی وزیردفاع سے ملاقات


اس سے قبل  آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ایرانی وزیر دفاع امیر حاتامی سے ملاقات کی، ایرانی وزیر دفاع سے ملاقات میں ایک دوسرے کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ کرنے کےعزم کا اعادہ کیا گیا، ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر اتفاق رائے بھی کیا گیا۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر پر صورت حال بہتر بنائی ہے، دہشت گرد پاک ایران دوستانہ سرحد غلط مقاصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں، ہمیں دہشت گردوں کی سازش کومل کرناکام بنانا ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top