ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو طے کرنا ہوگا اپنا رجیم بچانا ہے یا ٹی ٹی پی کی محبت میں خود کو تباہ کرنا ہے۔
ٹی وی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے اس میں افغانستان استعمال ہوتا ہے، افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے کہا کہ یہ افغان طالبان کے چوائس ہوگی کہ ان کے لیے فتنہ الخوارج اہم ہیں یا پاکستان، اسلام میں خودکشی حرام ہے یہ دین میں کہاں لکھا ہے کہ آپ خودکش حملہ کریں، دوحہ میں انہوں نے کہا تھا افغانستان کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا لیکن کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔
یہ پڑھیں: افغان طالبان رجیم کے 707 کارندے ہلاک، 938 سے زائد زخمی ہوچکے، عطا تارڑ
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کسی کو بھی پاکستان میں دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، دہشت گردی کی قیمت صرف شہید کا بچہ یا خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ دیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن غضب للحق شروع ہونے کے بعد سے کراس بارڈر دہشت گردی میں بہت فرق آیا ہے، پاکستان تو کہتا ہے کہ بات چیت کریں اور دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کریں، بات چیت اور دوسری طرف دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کا کاروبار ہی دہشت گردی اور منشیات سے وابستہ ہے، دہشت گردوں سے ہم لڑتے ہیں اور لڑتے رہیں گے ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


